وزیر اعظم شہباز شریف کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت نے فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم کر کے 378 روپے مقرر کی، اور نئی قیمتیں پٹرول پمپس پر نافذ کر دی گئی ہیں۔
تاہم شہری اس کمی سے مطمئن نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ پیٹرول اب بھی عام آدمی اور تنخواہ دار کے بجٹ سے باہر ہے۔ مہنگا پیٹرول تمام شعبوں پر اثر ڈال رہا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا اور عوام کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔حکومتی اعلان کے باوجود موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر رعایت کے ایس او پیز ابھی تک عملی طور پر نافذ نہیں ہو سکیں، جس سے بائیک رائیڈرز میں تشویش ہے۔
مزید برآں، ڈیزل کی قیمت میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے کرایے بھی بڑھ چکے ہیں۔ اسٹاپ ٹو اسٹاپ کرایہ اب 60 روپے تک جا پہنچا ہے، جس سے عوام کو روزمرہ کے سفر میں مشکلات کا سامنا ہے۔مختصر یہ کہ پیٹرول میں 80 روپے کمی کے باوجود عوام اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ریلیف محدود اور غیر مساوی محسوس ہو رہا ہے۔