سائنسدانوں کا لیبارٹری میں انسانی جسم بنانے کا فیصلہ

لیب میں بنائے گئے ان جسموں میں شعور یا درد محسوس کرنے کی صلاحیت نہیں ہو گی
لندن (آئی این پی) میڈیکل تحقیق کو انسانی جسموں اور اعضاء کی شدید قلت کا سامنا ہے، لیکن اسٹینفورڈ یونی ورسٹی کے سائنسدانوں نے اس مسئلے کا ایک متنازع لیکن ممکنہ حل تجویز کیا ہے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق، یہ طریقہ تحقیق اور دوا سازی میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے، جانوروں پر تجربات کی ضرورت کو کم کر سکتا ہے، اعضاء کی پیوندکاری کے منتظر مریضوں کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے اور زیادہ موثر علاج اور ادویات کی تیاری میں مدد دے سکتا ہے ۔۔ اسٹیم سیلز، جو جسم میں ہر قسم کے خلیات بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کی مدد سے سائنسدانوں نے ایسے ڈھانچے تیار کیے ہیں جو انسانی جنین کی ابتدائی نشوونما کی مشابہت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی رحم کی ٹیکنالوجی بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جو جسم سے باہر انسانی جنین کی نشوونما کا امکان پیدا کر رہی ہے۔ان ٹیکنالوجیز کے ساتھ جینیاتی تکنیکوں کے استعمال سے دماغی نشوونما کو محدود کرنے کی صلاحیت بھی حاصل ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں باڈی اوئیڈز یعنی مکمل انسانی جسم تیار کیے جا سکتے ہیں جو جسم سے باہر اسٹیم سیلز سے بنائے جائیں گے، لیکن ان میں شعور یا درد محسوس کرنے کی صلاحیت نہیں ہو گی۔سائنسدانوں کے مطابق، یہ نئی ایجاد جدید طب میں کئی اخلاقی مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے۔