سپریم کورٹ میں11 جون کو دھوکہ دہی کے ذریعے انسانی جسم سے اعضاء نکالنے کے کیس کی سماعت کرے گی

اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ میں11 جون کو دھوکہ دہی کے ذریعے انسانی جسم سے اعضاء نکالنے کے کیس کی سماعت کرے گی عدالت پہلے ہی متعلقہ اتھارٹی سے تمام ریکارڈ طلب کرچکی ہے اور مزید سماعت گیارہ جون تک ملتوی کرتے ہوئے کہاتھا کہ اہم مقدمہ ہے تمام ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کیاجائیگا۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ ٹیکسلا کے ڈاکٹر فواد ممتاز خان کی سات سال سزا کیخلاف بریت کی درخواست پر سماعت کرے گا۔پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے حکام عدالت میں پیش ہوں گے۔ سابقہ سماعت پر جسٹس ہاشم کاکڑنے کہاتھاکہ مکمل ریکارڈ منگوا لیں اور بھرپور تیاری کے ساتھ آئیں، پیچیدہ اور اہم معاملہ ہے، اگلی سماعت پر اس مقدمے کو تفصیل سے سن کر فیصلہ کریں گے۔واضح رہے کہ ٹیکسلا میں جلد کے ڈاکٹر نے نوکری کا جھانسہ دے کر بیہوش کرکے شہری کا گردہ نکال لیا ٹرائل کورٹ نے ڈاکٹر فواد ممتاز خان کو سات سال کی سزا سنائی۔ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ملزم ڈاکٹر نے سزا کیخلاف سپریم کورٹ میں بریت کی درخواست دائر کی۔