بچوں کی بہتر غذائیت کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا: عطا تارڑ

بچوں کی بہتر غذائیت کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا: عطا تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بچوں کی بہتر غذائیت اور صحت کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا، جبکہ غذائیت سے متعلق آگاہی مہم کو سال بھر جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

ایکٹ فار نیوٹریشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ غذائیت سے متعلق آگاہی مہم کو محض وقتی سرگرمی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے لیے سالانہ ایکشن پلان مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی، رائے عامہ بنانے والوں اور صحافتی تنظیموں کا تعاون ضروری ہے۔ والدین اپنے بچوں کے لیے بہترین فیصلے کرنا چاہتے ہیں، تاہم بعض اوقات وہ غلط معلومات کا شکار ہوجاتے ہیں، اس لیے انہیں نقصان دہ گھریلو علاج اور گمراہ کن تجارتی دعوؤں سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ والدین کو آگاہی ہونی چاہیے کہ بچوں کے لیے کب پیشہ ورانہ طبی نگہداشت ضروری ہے۔ غذائیت سے متعلق درست معلومات فیصلوں کا بنیادی حصہ ہیں اور ان کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ غذائیت صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ آگاہی کا بھی معاملہ ہے۔ بعض اوقات ماں کے پاس مناسب غذا موجود ہوتی ہے لیکن اسے اس کے درست استعمال کا علم نہیں ہوتا، اس لیے درست پیغام، درست افراد تک اور درست وقت پر پہنچانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین کے پاس ممکن ہے انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہ ہو، تاہم کمیونٹی کمیونیکیشن کے ذریعے انہیں ضروری معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ غلط تصورات اور گمراہ کن معلومات کا مؤثر مقابلہ کرنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حاملہ خواتین کو غذائیت بخش خوراک، مناسب آرام اور طبی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ خاندان کو ان کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے۔ بچوں کی غذائیت اور بہتر پرورش والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے والد کی چھٹی کے حوالے سے کہا کہ بچے کی پیدائش کے موقع پر ملنے والی چھٹی کا مقصد ماں اور بچے کی معاونت ہے، اس لیے اس کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ بچوں کی غذائیت کے لیے شواہد پر مبنی طریقہ کار کو فروغ دینا ہوگا اور غذائیت سے متعلق درست معلومات تیزی سے عوام تک پہنچانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماہرین، طبی شعبے سے وابستہ افراد اور ڈیجیٹل کریئیٹرز کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ غلط معلومات کے خلاف مؤثر ماحول پیدا کیا جاسکے۔ صرف پیغام پہنچانا آگاہی مہم کی کامیابی نہیں، بلکہ لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی لانا اصل کامیابی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق خواتین کو حمل اور بچے کی پیدائش کے دوران مناسب غذائی معاونت تک رسائی ملنی چاہیے، کیونکہ ماں اور بچے کی بہتر صحت کے لیے غذائیت اور درست معلومات تک رسائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔