وزیراعظم، آرمی چیف اور تمام سٹیک ہولڈرز دہشتگردی کے خلاف ایک صفحے پر ہیں: محسن نقوی

وزیراعظم، آرمی چیف اور تمام سٹیک ہولڈرز دہشتگردی کے خلاف ایک صفحے پر ہیں: محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبوں میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار کو بڑھانے پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم، آرمی چیف اور تمام سٹیک ہولڈرز ایک صفحے پر ہیں اور صوبوں کی مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں نیشنل اور پراونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹرز کے قیام پر ہونے والی پیش رفت کو بھی زیر غور لایا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹرز کے قیام کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ تمام صوبوں میں پراونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹرز کے قیام پر کام جاری ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کی تنظیم نو کے بعد اسے نیشنل ریزرو پولیس میں تبدیل کیا جا رہا ہے، اور اجلاس میں دھماکہ خیز مواد کو وفاقی سبجیکٹ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کے ذریعے افغان حکومت کے سامنے دہشت گردی کے مسئلے کو موثر طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ تمام ادارے غیر ملکی شہریوں کی فول پروف سیکیورٹی کے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے، اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک صفحے پر لایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی سطح پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو فعال کرنا انتہائی ضروری ہے، اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ وفاقی سطح پر ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کو بھی فعال کیا جائے گا۔اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا، سیکورٹی اداروں کے نمائندے، اور تمام صوبوں کے وزیر داخلہ اور سیکرٹریز داخلہ نے شرکت کی۔