جسٹس محمد عثمان غنی نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد سے ڈیپوٹیشن پر بہاولپور چڑیا گھر میں تعینات ملازم کی درخواست خارج کردی
لاہور(آئی ین پی )لاہور ہائیکورٹ نے ڈیپوٹیشن پر کام کرنے والے ملازم کو 90روز کی معطلی کے لیے اصل ادارہ سے اجازت لینا ضرور نہیں، عدالت نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد سے ڈیپوٹیشن پر بہاولپور چڑیا گھر میں تعینات ملازم کی درخواست خارج کردی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد عثمان غنی راشد چیمہ نے شہباز انور کی درخواست پر14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا، درخواست گزار وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد سے ڈپیٹویشن پر بہاولپور چڑیا گھر مین تعینات تھا۔عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ ملازم پر الزام تھا کہ اس نے مختلف اقسام کے 330 چوزوں کی ہلاکت کی اطلاع متعلقہ افسر کو نہیں دی، اسے اس معاملے پر وضاحت بھی طلب کی گئی تھی، جس کے بعد 16 اگست 2026 کو اسے 90 روز کے لئے معطل کردیا گیا۔ملازم نے اپنی معطلی کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا، اس کے وکیل کا موقف تھا کہ چونکہ ملازم ڈیپوٹیشن پر کام کر رہا ہے، اس لیے اسے معطل کرنے سے پہلے اس کے اصل ادارے سے اجازت لینا ضروری تھی۔جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے فیصلے میں نیا قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا کہ پیڈا ایکٹ کی دفعہ 6 اور 15 کے تحت ڈیپوٹیشن پر تعینات ملازم کو معطل کرنے کیلئے پہلے اصل ادارے سے اجازت لینا ضروری نہیں، البتہ متعلقہ ادارے کو معطلی کی وجوہات سے آگاہ کرنا ہوگا