عدالت میں عظمی بخاری اور فلک جاوید کے درمیان تلخ کلامی تم جھوٹی عورت ہو کچھ شرم کرو، تمہارے کام ٹھیک نہیں :وزیراطلاعات

شرم کرو تمہاری بھی ایک بیٹی ہے،جیل سے آرہی ہو ‘ابھی بھی تمہارے چہرے پر کوئی شرمندگی نہیں ، مجھے کوئی نہ سکھائے میں نے بیان کیا دینا ہے:عظمی بخاری
 استدعا منظور نہ ہونے پر عدالت کو بند کرنے کا مشورہ‘بطور وزیر ایسا ہورہا ہے تو عوام کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ وزیراطلاعات کا روسٹرم پر آکر بیان
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے جج کے روبرو پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کروادیا جبکہ ویڈیو لنک سے پیشی کی درخواست منظور نہ ہونے پر کہا کہ میرے ساتھ بطور وزیر ایسا ہورہا ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ اس دوران اْن کی وکیل صفائی و ملزمہ سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔جج نے وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری روسٹرم پر بلایا تو انہوں نے بیان دیتے ہوئے  کہا اگر عدالت اجازت دے تو دو تین باتیں کرنی ہیں، میں ملزمہ نہیں ہوں ، اس کیس میں کمپلینٹ ہوں، مجھ سے زیادتی ہوئی ہے ،آپ کو پتہ ہے مجھ پر کیا گزرتی ہے۔عظمی بخاری  نے کہا ایک یوٹیوبر نے ٹوئیٹ کیا کہ میرے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے، بتایا جائے کہ کب وارنٹ جاری ہوئے، یہ یوٹیوبر کمرہ عدالت میں کھڑا ہے اس سے پوچھیں کیا وارنٹ جاری ہوئے ہیں۔عظمیٰ بخاری کے بولنے پر یوٹیوبر نے کمرہ عدالت میں معافی مانگی جس کے بعد جج نے کارروائی کو جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری کو بیان مکمل کرنے کی ہدایت کی۔عظمی بخاری نے کہا کہ یہ ایک عورت کی عزت کا معاملہ ہے اور یہ کوئی عام سول کیس نہیں، میری ایک فیک ویڈیو بنا کر وائرل کی گئی جس کے بعد میں کس کرب سے گزری ہوں آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ عظمی بخاری نے کہا کہ میری استدعا تھی کہ میرا ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کیا جائے، دکھ سے کہہ رہی ہوں اگر عدالت نے ایسے ہی چلنا ہے تو بھی بند کردینا زیادہ بہتر ہے جب بطور وزیرمیرے ساتھ ایسا ہورہا ہے تو عوام آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔اس پر جج نعیم وٹو نے کہا کہ ہمارے لیے ایک عورت کا احترام بہت ضروری ہے، ہمارے فیصلے بتاتے ہیں ہم اس طرح کے کیسز کو کیسے ڈیل کرتے ہیں۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آج بہت سے لوگ میرے ساتھ آنا چاہتے تھے مگر میں نے منع کیا کیونکہ میں نہیں چاہتی ہمارے لوگ ا?منے سامنے ہوں اور کوئی بدمزگی ہو۔اسی دوران کمرہ عدالت میں فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق اور عظمی بخاری میں تلخ کلامی ہوئی۔ وزیر اطلاعات نے علی اشفاق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ڈکیٹر نہ بنیں اور آواز نیچی کر کے بات کریں۔سماعت جاری تھی مگر ملزمہ فلک جاوید کو پیش نہیں کیا گیا جس پر عدالت نے جیل حکام کو 20 منٹ کے اندر ملزمہ کو پیش کرنے کا حکم دیا اور کچھ وقفہ لیا۔کچہری دوبارہ شروع ہوئی تو عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کسی بھی حکم کو چیلنج کرنا حق ہے، عدالت میں غنڈہ گردی نہیں چلی گی یہاں ملزمہ کو چائے کافی آفر کی جاتی ہے۔عظمیٰ بخاری کے وکیل نے کہا کہ عدالت میں جو کچھ ملزمہ اور انکے لوگوں کی طرف سے رویہ اختیار کیا جارہا اسی لیے ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر صرف متعلقہ وکلا کو کمرہ عدالت میں آنے کا حکم دیا۔اسی دوران جیل حکام کی جانب سے فلک جاوید کو عدالت میں پیش کیا گیا تو عظمی بخاری اور فلک جاوید کے درمیان کمرہ عدالت میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔عظمیٰ بخاری نے فلک جاوید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا  شرم کرو تمہاری بھی ایک بیٹی ہے،جیل سے آرہی ہو ابھی بھی تمہارے چہرے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے، مجھے کوئی نہ سکھائے میں نے بیان کیا دینا ہے، میں خود وکیل ہوں۔انہوں نے فلک جاوید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا  تم جھوٹی عورت ہو کچھ شرم کرو، تمہارے کام ٹھیک نہیں ہیں۔ سامنے سے جواب ملنے پر عظمیٰ بخاری نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملزمہ ہے جیل سے آئی ہے اسکی زبان دیکھیں۔