سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
ہربیان،ہرملاقات اورہر پیش رفت کوبغوردیکھاجارہاہے۔گویایہ شہرایک ایسے اسٹیج میں بدل چکاہے جہاں عالمی سیاست کاڈرامہ اپنے عروج پرہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی اسلام آبادنے بڑی طاقتوں کے درمیان پل کاکرداراداکیاپاکستان ماضی میں بھی عالمی ثالثی میں اہم کرداراداکر چکاہے۔یہ ایک ایسی روایت ہے جوآج بھی زندہ ہے۔یہ وہی شہرہے جس نے کبھی واشنگٹن اوربیجنگ کوقریب لانے میں کلیدی کردارادا کیاتھا۔آج پھروہی داستان نئے اندازمیں رقم ہورہی ہے۔یہ پہلاموقع نہیں کہ پاکستان نے عالمی سطح پرثالثی کاکرداراداکیاہو۔ماضی میں بھی اسلام آبادنے بڑی طاقتوں کے درمیان پل کاکرداراداکیاتھا۔یہ روایت آج بھی زندہ ہے اورایک نئے باب کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔
پاکستان کی حکمت عملی مفاہمت اورتوازن پرمبنی ہے،جواسے ایک مؤثرثالث بناتی ہے۔دنیاکی نظریں اس وقت اسلام آبادپرمرکوزہیں۔یہ شہرایک ایسے اسٹیج میں تبدیل ہوچکاہے جہاں عالمی سیاست کے اہم کرداراپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں۔امریکاکی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی حمایت اس بات کاثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں بھی اس کی صلاحیتوں کو تسلیم کررہی ہیں۔امریکاکااعتمادپاکستان کیلئے ایک اہم سفارتی سرمایہ بن چکاہے اورکبھی یہی کردارپاکستان نے دوحہ میں افغان امریکامذاکرات میں بھی بڑی خوش اسلوبی سے ادا کیاتھا س کے بعد مریکا کا فغانستان سے انخلاممکن ہواتھا۔
ہمیں یہاں بہت محتاط ہو کرآنے والے اقدامات کیلئے ایک واضح اور جامع پالیسی تیارکرناہوگی کہ ایک مرتبہ پھرصدرٹرمپ کی انتظامیہ کایہ اعتماداورانحصارپاکستان کیلئے کہیں کوئی نئی آزمائش نہ بن جائے۔پاکستان کی ممکنہ کامیابی کوسفارتی انقلاب قراردینادراصل اس کے کردارکی اہمیت کاجہاں اعتراف ہے وہاں دوحہ میں طالبان کے مذاکرات کے بعداب ہم جس صورتحال سے گزررہے ہیں،فیلڈمارشل عاصم منیرکابطورثالث ابھرناپاکستان کی فیصلہ کن قیادت کامظہرہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکی قیادت پاکستان کی فیصلہ کن پالیسیوں
کی عکاس ہے۔یہ قیادت نہ صرف داخلی سطح پرمضبوط ہے بلکہ عالمی سطح پربھی اپنااثردکھارہی ہے۔ان کی سفارتی سرگرمیاں اورعالمی رہنماں سے روابط اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان محض ردعمل دینے والاملک نہیں بلکہ مشکل حالات کوتعمیراتی شکل دینے والا کرداراداکررہاہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے بھارت کی پالیسی ایک زمانے تک توازن اوراحتیاط کی مثال سمجھی جاتی تھی۔ایران،خلیجی ممالک اور اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات ایک نازک توازن پرقائم تھے،مگرحالیہ برسوں میں مودی حکومت نے یہ توازن بری طرح بگاڑدیاہے ۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں حالیہ برسوں میں واضح تبدیلی آئی ہے۔بھارت کی حالیہ خارجہ پالیسی میں توازن کی کمی واضح دکھائی دیتی ہے،جواس کیلئے سفارتی چیلنجزپیدا کررہی ہے۔جہاں پہلے وہ توازن کی پالیسی اپناتاتھا،اب اس کاجھکا ایک خاص سمت میں نظر آتا ہے۔یہ تبدیلی اس کے علاقائی تعلقات پراثر اندازہورہی ہے۔
بھارت کاجھکاایک خاص سمت میں ہونااس کی غیرجانبداری کومتاثرکررہاہے۔یعنی ایران پرحملوں کے بعدبھارت کامقف اورجھکا واضح طورپرامریکااوراسرائیل کے حق میں نظر آتاہے۔اس یک طرفہ رویے نے نہ صرف اس کی غیرجانبداری کومشکوک بنادیابلکہ اسے ایک فریق کے طورپرپیش کیاہے جس نے اس کے علاقائی تعلقات کوبھی متاثرکیاہے۔ سفارت کاری میں توازن کھودیناایسے ہی ہے جیسے کشتی بان اپناقطب نماگم کردیپھرسمتیں دھندلاجاتی ہیں اورمنزل کھوجاتی ہے۔ایران پرحملوں کے بعد بھارت کامؤقف واضح طور پرامریکااوراسرائیل کے حق میں نظرآتاہے۔اس یک طرفہ رویے نے اس کی غیرجانبداری کومتاثرکیاہے۔
یہ جنگ ایک پیچیدہ صورت حال اختیارکرچکی ہے جس میں ہرقدم سوچ سمجھ کراٹھاناضروری ہے۔ایران کی جنگ ایک پیچیدہ شطرنج ہے جس میں ہرچال سوچ سمجھ کرچلنی پڑتی ہے، اورہرچال کے کئی معنی ہوتے ہیں۔اسرائیل،امریکا،ایران اوردیگرعلاقائی طاقتیں اس کھیل کے اہم کردارہیں۔پاکستان اس کھیل میں ثالث کاکرداراداکررہاہے،جوسب سے مشکل مگرسب سے مؤثرکردارہوتاہے۔پاکستان کے اس سے عدم تعلق کے باعث ثالثی کاعمل مزیددشوارہوجاتاہے۔تاہم امریکاکی حمایت نے پاکستان کووہ اعتمادعطاکیاہے جو بڑے فیصلوں کی بنیادبنتاہے۔سفارت کاری میں توازن ہی کامیابی کی کنجی ہوتاہے۔بین الاقوامی سیاست میں توازن ایک بنیادی اصول ہے۔جوممالک اس توازن کوبرقراررکھتے ہیں،وہی دیرپااثرات چھوڑتے ہیں۔پاکستان کی موجودہ حکمت عملی اسی اصول کی عکاس ہے۔پاکستان کوجو اعتمادحاصل ہے،وہ اس کی سب سے بڑی قوت ہے۔امریکاکی حمایت اورایران کے ساتھ تعلقات نے اسے ایک منفردحیثیت دی ہے۔
بھارت نے ابتداہی سے ایک واضح صف بندی اختیارکرلی ہے،اوراس بحران میںاس کاکردارمحدوددکھائی دیتاہے۔خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی مفادات اورامریکاکے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات نے اسے ایک خاص سمت میں دھکیل دیاہے۔اس کے بیانات اوراقدامات اسی جھکاؤکی عکاسی کرتے ہیں۔امریکاکااس پرعدم اعتماددراصل اسی خلاکی نشاندہی کرتاہے۔یوں بھارت ایک خودمختارثالث کی بجائے ایک تابعداراتحادی کے طورپرسامنے آتاہے۔اس کی پالیسیوں نے اسے ایک ثالث کی بجائے اسے خطے کی ظالم قوت کافعال ساتھی بنادیاہے۔بھارت کے اندرونی حلقوں میں بڑھتی ہوئی تنقیداس امرکی غمازہے کہ اس کی خارجہ پالیسی اپنی سمت کھوبیٹھی ہے۔غزہ سے لے کر ایران تک،اس کی کمزورآوازنے اس کے وقارکومتاثرکیاہے۔عالمی سیاست میں خاموشی اکثربے وزنی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
بھارت کے اندرونی حلقوں میں ہونے والی تنقیداس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی پرسوالات اٹھ رہے ہیں۔ایران جیسے قریبی ہمسائے کے معاملے میں خاموشی یاجانبداری ایک بڑی سفارتی لغزش سمجھی جارہی ہے۔جب جنگ دروازے پردستک دے رہی ہوتوخاموشی بھی ایک کمزوری کی علامت اورایک بھیانک مکروہ جرم بن جاتی ہے۔ یوں عالمی طورپرپاکستان اوربھارت کی قیادت کے اندازمیں واضح فرق نظرآتاہے۔
اس خطے میں طاقت کاتوازن مسلسل بدل رہاہے۔ایران کی مزاحمت،اسرائیل کی جارحیت اورامریکاکی مداخلت نے ایک پیچیدہ صورت حال پیداکردی ہے۔ خلیجی ممالک اس بحران میں اہم حیثیت اوران کے فیصلے مستقبل کومتاثرکرسکتے ہیں۔ان کے مفادات اورتعلقات اس تنازع کے نتائج پراثراندازہوسکتے ہیں۔یہ خطہ ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہاہے جہاں ہرطاقت اپناکرداراداکررہی ہے۔یہ بحران عالمی سیاست میں ایک نئے باب کاآغازکرسکتاہے۔طاقت کے توازن میں تبدیلیاں اورنئے اتحاداس کے ممکنہ نتائج ہیں۔
اگرپاکستان اپنی ثالثی میں کامیاب ہوتاہے تواس کاعالمی وقارغیرمعمولی حدتک بڑھ جائے گا۔یہ ایک تاریخی کامیابی ہوگی۔ایک کامیاب ثالثی نہ صرف جنگ کوختم کرسکتی ہے بلکہ مستقبل کے تنازعات کیلئے ایک مثال بھی قائم کرسکتی ہے۔یہ صورتحال بھارت کیلئے ایک سبق ہے کہ خارجہ پالیسی میں توازن اوربروقت فیصلے کتنے اہم ہوتے ہیں۔یادرہے کہ یہ بحران عالمی نظام کی نئی تشکیل کاپیش خیمہ بن سکتاہے۔پاکستان کاکرداراسے عالمی سطح پرایک نئی پہچان دے رہاہے۔کامیاب ثالثی نہ صرف جنگ کوختم کرے گی بلکہ مستقبل کیلئے ایک مثال قائم کرے گی۔یہ صورتحال جہاں بھارت کیلئے ایک اہم سبق ہے کہ سفارت کاری میں توازن اوربروقت فیصلے کتنے ضروری ہوتے ہیں وہاں تاریخ ہمیشہ ان قوموں کا احتساب کرتی ہے جواہم مواقع پردرست فیصلے کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔
پاکستان اور بھارت کی قیادت کے اندازمیں واضح فرق نظرآتاہے۔جہاں ایک طرف فیصلہ کن اقدامات ہیں،اورپاکستان کی فیصلہ کن قیادت نے اس کے کردارکومزیدمستحکم کیا ہے۔جہاں ایک طرف بھارت میں تذبذب اورتردد دکھائی دیتاہے،وہیں پاکستان میں واضح حکمت عملی اورجراتِ اقدام نظر آتی ہے۔قیادت کایہی وصف قوموں کی تقدیربدل دیتاہے۔
پاکستان ایک نئے سفارتی عہدکی دہلیزپرکھڑاہے۔اگراس کی ثالثی کامیاب ہوتی ہے تویہ نہ صرف ایک جنگ کاخاتمہ ہوگابلکہ ایک نئے عالمی بیانیے کا آغازبھی جبکہ بھارت کیلئے یہ لمحہ احتساب اور ایساآئینہ جس میں اسے اپنی منافقانہ پالیسیوں کی کمزوری صاف دکھائی دے رہی ہے۔تاریخ کاپہیہ گھوم رہاہے، اوراس باراس کی گردش میں پاکستان کا قد واقعی بلندہوتادکھائی دے رہاہے۔
تاریخ ہمیشہ ان قوموں کویادرکھتی ہے جومشکل وقت میں درست فیصلے کرتی ہیں۔آنے والے دن اس بحران کے نتائج کاتعین کریں گے،مگرایک بات واضح ہے کہ پاکستان نے اپنی موجودگی کابھرپوراحساس دلایاہے۔ پاکستان ایک نئے سفارتی افق کی طرف بڑھ رہاہے۔اگراس کی ثالثی کامیاب ہوتی ہے تویہ نہ صرف جہاں ایک جنگ کا خاتمہ ہوگااورایک نئے عالمی نظام کی بنیاداور ایک نئی عالمی ترتیب کاآغازبھی ۔یوں محسوس ہوتاہے کہ تاریخ کے افق پرایک ایسی نئی سحر طلوع ہورہی ہے جس میں پاکستان کاقدواقعی بلنداوراس کی آوازعالمی ضمیرکی بازگشت بن کرگونجے گی۔