سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
زمانہ اپنی کروٹیں بدل رہاہے اورتاریخ کے اوراق پرایک نئی تحریررقم ہونے کوہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین،جوصدیوں سے تہذیبوں کے عروج وزوال کی گواہ رہی ہے،ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی کشمکش کامیدان بنی ہوئی ہے۔زمانہ اپنی کروٹیں بدل رہاہے،اورتاریخ اپنے سینے میں ایک نئی کہانی کوجنم دینے کیلئے بے چین دکھائی دیتی ہے۔مشرقِ وسطی کی وہ سرزمین ،جہاں کبھی تہذیبوں کے چراغ روشن ہوئے اورجہاں سے علم وحکمت کے قافلے روانہ ہوئے،آج پھرباروداورخون کی مہک سے آلودہ ہے۔ایران پراسرائیل اورامریکا کے حملوں نے عالمی سیاست کوایک ایسے موڑپرلاکھڑاکیاہے جہاں ہر موج اپنے اندرایک ایساطوفان سموئے ہوئے ہے جہاں ہرفیصلہ آنے والے برسوں کی سمت متعین کرے گا۔یہ محض جنگ نہیں،بلکہ قوت اوراخلاق،مفاداوراصول،اورجارحیت ومفاہمت کے درمیان ایک فکری معرکہ بھی ہے۔
عالمی سیاست کے افق پراس وقت ایک ایساہنگامہ ہستی برپاہے جس میں بارودکی بو،سفارت کاری کی لطافت اورطاقت کے توازن کی کشمکش ایک ساتھ جلوہ گرہیں۔ایران پر اسرائیل اورامریکاکے شدیدحملوں نے جہاں مشرقِ وسطیٰ کوایک آتش فشاں کے دہانے پرلاکھڑا کیاہے،وہیں اسلام آبادکی خاموش مگرپراثرسفارت کاری نے عالمی نگاہوں کواپنی جانب منعطف کرلیاہے۔بظاہریہ ایک جنگ ہے،مگر درحقیقت یہ عالمی قیادت کے نئے معیارات کی تشکیل کالمحہ بھی ہے۔
اسی ہنگام آشوب میں پاکستان کاکردارایک چراغِ امیدکی مانندابھررہاہے ،ایک ایساچراغ جواندھیروں میں راستہ دکھانے کی سکت رکھتاہے۔اقوام عالم نے یہ تسلیم کیاہے کہ پاکستان کاکردارایک ایسے صاحبِ بصیرت ثالث کے طورپرابھررہاہے جونہ صرف حالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتاہے بلکہ انہیں سنوارنے کی بھی سکت رکھتاہے۔اس بحران کے بیچ پاکستان نے ثالثی کی جوسبیل نکالی ہے،وہ محض ایک سفارتی چال نہیں بلکہ ایک فکری وتہذیبی روایت کی بازگشت ہے،وہ روایت جومفاہمت،توازن اورحکمت کی امین رہی ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کے بیانات سے اگرچہ یہ عندیہ ملتا ہے کہ فی الوقت تہران مذاکرات کیلئے آمادہ نہیں،تاہم پسِ پردہ پیغامات کاتبادلہ اس امرکی غمازی کرتاہے کہ سفارتی دریچے ابھی مکمل طورپربندنہیں ہوئے۔اس سارے منظرنامے میں امریکاکی جانب سے پاکستان کی کوششوں کی تائیدایک غیرمعمولی پیش رفت ہے،جواس کے کردارکومحض علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پرمعتبربناتی ہے۔
ایران اورمغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کوئی نئی داستان نہیں،ایران اورمغربی طاقتوں کے درمیان کشمکش کی جڑیں گہری ہیں۔یہ تنازع صرف حالیہ واقعات کانتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پرمحیط عدم اعتماد،نظریاتی اختلاف اورجغرافیائی مفادات کاحاصل ہے۔اسرائیل کی عسکری کارروائیاں اورامریکاکی غیرمشروط حمایت نے اس آگ کومزیدبھڑکادیاہے بلکہ حالیہ تصادم نے اسے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل کردیاہے۔یہ جنگ محض سرحدوں کی نہیں بلکہ بیانیوں کی جنگ ہے۔اسرائیل کی عسکری پیش قدمی اورامریکاکی پشت پناہی نے اس تنازع کومحض علاقائی نہیں بلکہ عالمی بحران میں بدل دیاہے۔یہ جنگ صرف سرحدوں کی نہیں بلکہ بیانیوں کی بھی ہیایک طرف طاقت کاغرور،مغربی طاقتوں کاتسلط پسندبیانیہ ، اوردوسری طرف ایران کاخودمختاری اورمزاحمت کافلسفہ،اس جنگ کودنیاکی تباہی کی طرف لے جارہاہے۔
ایسے نازک وقت میں اسلام آباد کی سفارت کاری ایک غیرمعمولی اہمیت اختیارکرگئی ہے۔اسلام آبادآج محض ایک دارالحکومت نہیں بلکہ ایک سفارتی مرکزکی صورت اختیارکر چکا ہے۔پاکستان نے جس حکمت،تحمل اورتدبرکے ساتھ ثالثی کی راہ اختیارکی ہے،وہ اس کی سیاسی بصیرت کاآئینہ دارہے۔یہ وہی سرزمین ہے جہاں کبھی عالمی طاقتوں کے درمیان خاموش معاہدے طے پاتے رہے،اورآج بھی وہی روایت نئے رنگ میں جلوہ گرہے۔دنیاکی نظریں یہاں مرکوز ہیں،اوردلی کے ایوانوں میں اس پیش رفت پرتشویش کی لہریں دوڑرہی ہیں۔ بھارتی مبصرین کیلئے یہ ایک کربناک حقیقت ہے کہ جس ملک کووہ طعن وتشنیع کاہدف بناتے رہے،وہی آج عالمی امن کی امیدبن کر ابھررہاہے۔بین الاقوامی نظام اس وقت ایک عبوری دورسے گزررہاہے۔سردجنگ کے بعدقائم ہونے والایک قطبی نظام اب اپنی افادیت کھورہاہے اور ایک کثیرالقطبی دنیاکی تشکیل ہورہی ہے۔اس نئی دنیامیں علاقائی طاقتوں کاکرداربڑھ رہاہے،اورپاکستان انہی ابھرتی ہوئی قوتوں میں شامل ہوتادکھائی دے رہاہے۔
بھارتی اپوزیشن کے رہنماششی تھرورکی آوازاس بے چینی کی آئینہ دارہے۔ان کایہ اعتراف کہ بھارت کوبھی امن مذاکرات میں پہل کرنی چاہیے تھی،دراصل ایک کھوئے ہوئے موقع کانوحہ ہے۔پاکستان،مصراورترکی کی پیش قدمی نے جہاں امن کے امکانات کوجلابخشی ہے ،وہیں بھارت کی سفارتی سستی اورناکامی کوبھی نمایاں کردیاہے۔گویاتاریخ نے ایک بارپھرثابت کیاکہ جوقومیں وقت کے تقاضوں کونہیں سمجھتیں،وہ مواقع کے قافلے سے پیچھے رہ جاتی ہیں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک خاص لطافت ہمیشہ سے موجودرہی ہے،وہ لطافت جوتوازن،احتیاط اورمکالمے پرمبنی ہے۔ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات اورامریکا کے ساتھ اسٹریٹجک روابط نے اسے ایک ایسامنفردمقام عطاکیاہے جہاں سے وہ دونوں فریقوں کے درمیان پل بن سکتا ہے۔یہی وہ وصف ہے جوکسی بھی ثالث کومعتبربناتاہے۔اسلام آباد آج محض ایک انتظامی دارالحکومت نہیں بلکہ سفارتی حکمت کامرکزبن چکاہے۔یہاں ہونے والی ملاقاتیں،خفیہ پیغامات اورپس پردہ روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پرایک سنجیدہ اورذمہ دارکرداراداکرنے کیلئے تیارہے۔
پاکستان کی سفارت کاری ہمیشہ ایک خاص توازن کی حامل رہی ہے۔یہ نہ تومکمل طورپرکسی ایک بلاک کاحصہ بنتی ہے اورنہ ہی خود کوتنہائی کاشکارہونے دیتی ہے۔یہی اعتدال اسے ایک قابلِ اعتمادثالث بناتاہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکا بطورثالث ابھرنامحض ایک فردکی کامیابی نہیں بلکہ ریاستی عزم اورادارہ جاتی ہم آہنگی کامظہرہے۔واشنگٹن اورتہران کے درمیان پل کاکرداراداکرناایک ایساکارنامہ ہے جوپاکستان کی سیاسی بصیرت اورعلاقائی اہمیت کودوچندکردیتاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب تاریخ اپنے اوراق میں ایک نئے باب کا اضافہ کر رہی ہے۔
امریکاکی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی حمایت ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے۔یہ محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک اعتمادکا اظہارہیوہ اعتمادجوبرسوں کی شراکت داری اورباہمی مفادات کے نتیجے میں پروان چڑھاہے۔ٹرمپ انتظامیہ کایہ جھکاپاکستان کیلئیایک سفارتی سرمایہ ثابت ہوسکتاہے جبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کایہ کہناکہ ایران فی الحال مذاکرات کاخواہاں نہیں، بظاہرایک سخت مقف معلوم ہوتاہے،مگرسفارت کاری کی زبان میں یہ ایک دروازہ بندہونے کے ساتھ ساتھ کئی کھڑکیوں کے کھلے رہنے کااشارہ بھی ہوتا ہے۔دراصل سفارتی زبان کا ایک نازک پہلو ہے۔بسااوقات انکارکے پردے میں اقرارکی رمق چھپی ہوتی ہے۔ پیغامات کاتبادلہ اس بات کی دلیل ہے کہ دروازے مکمل طورپر بند نہیں ہوئے۔پیغامات کاتبادلہ اس بات کی دلیل ہے کہ پسِ پردہ سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
بھارت میں اس پیش رفت پرجواضطراب پایاجاتاہے،وہ اس کے اندرونی خدشات کی عکاسی کرتاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب ایک حریف کی کامیابی دوسرے کیلئیسوالیہ نشان بن جاتی ہے۔بھارت میں اس پیش رفت پرجو ردعمل سامنے آرہاہے،وہ محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک گہری تشویش کااظہارہے۔بھارتی صحافیوں کی جانب سے پاکستان کی ممکنہ کامیابی کوسفارتی انقلابقراردیناایک غیر معمولی تلخ اعتراف ہے۔یہ وہی پاکستان ہے جسے اکثر تنقیدکانشانہ بنایاجاتارہا،اورآج وہی ملک عالمی امن کی امید بن کرابھررہاہے۔
برسوں سے پاکستان کوناکام ریاست قراردینے والے آج اسی کے کردارکوسراہنے پرمجبورہیں۔اگرپاکستان اس آگ کوبجھانے میں کامیاب ہوجاتاہے تویہ نہ صرف ایک جنگ کا خاتمہ ہوگابلکہ عالمی سطح پرطاقت کے توازن میں ایک نمایاں تبدیلی بھی ہوگی۔تجزیہ کاروں کے نزدیک پاکستان کی کامیابی بھارت کیلئے ایک سفارتی دھچکاہوسکتی ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب دلی کواپنے فیصلوں پرنظرثانی کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔بھارتی اپوزیشن ششی تھرورکابیان ایک اعتراف ہے ،ایک ایسااعتراف جواس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ بھارت ایک اہم موقع کھوبیٹھاہے۔ششی تھرورکا بیان دراصل ایک آئینہ ہے جس میں بھارت کی سفارتی کمزوری صاف جھلکتی ہے۔ان کا یہ کہناکہ حکومت کوامن مذاکرات میں پہل کرنی چاہیے تھی،اس بات کااعتراف ہے کہ بھارت ایک اہم موقع گنوابیٹھاہے اوریہ عظیم ناقابل تلافی سیاسی حادثہ مودی جیسے نااہل کے دورمیں ہواہے۔
ثالثی بذاتِ خودکوئی معجزہ نہیں،مگراس کی کامیابی ایک قوم کی ساکھ کونئی بلندیوں تک لے جاسکتی ہے۔آج دنیاکی نظریں اسلام آبادپر مرکوزہیں،اب عالمی سفارت کاری کامرکزبنتاجارہاہے۔ہربیان،ہرملاقات اورہر پیش رفت کوبغوردیکھاجارہاہے۔گویایہ شہرایک ایسے اسٹیج میں بدل چکاہے جہاں عالمی سیاست کاڈرامہ اپنے عروج پرہے۔
(جاری ہے)