ایڈز کے مریضوں کی اکثریت منشیات کے مقدمات میں جیل آئی
کوئی قیدی جیل میں رہتے ہوئے مرض میں مبتلا نہیں ہوا:ترجمان
لاہور (کرائم رپورٹر)پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد اور مرض کی وجوہات سامنے آگئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کی جیلوں کا ایڈز کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے موثر کردار سامنے آیا۔ پنجاب کی تمام جیلوں میں ہر نئے آنے والے قیدی کی ایڈز اور ہیپاٹائٹس سکریننگ کی جاتی ہے جس کی بدولت چھپا ہوا مرض ظاہر ہو رہا ہے۔ پنجاب بھر کی جیلوں میں پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی معاونت سے ایڈز کے تمام 673 مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور انہیں الگ مختص کردہ بیرکس میں رکھا جاتا ہے۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق جیلوں میں قیام کے دوران کسی قیدی کو ایڈز نہیں ہوا بلکہ جیل داخلے کے وقت میڈیکل سکریننگ ٹیسٹس کی بدولت مرض کی تشخیص ہوئی اور علاج کا آغاز کیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ پنجاب کی جیلوں میں آنے والے ہر قیدی کی میڈیکل سکریننگ کی جاتی ہے اور اسی کی بدولت بہت سے مریضوں کو اپنے مرض کا علم ہوا اور انکا علاج شروع کیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ ایڈز کے مریضوں کی اکثریت منشیات کے عادی مجرمان ہیں جو منشیات کے مقدمات میں جیل آئے اور میڈیکل سکریننگ ٹیسٹس سے ان میں مرض کی تشخیص ہوئی۔ ترجمان نے بتایا کہ پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے تمام 673 مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور انہیں ایڈز کے مریضوں کو الگ مختص کردہ بیرکس میں رکھا جاتا ہے تاکہ علاج و معائنہ کیا جاسکے۔ ترجمان نے بتایا کہ تمام جیلوں میں پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے ذریعے اسکریننگ اور علاج کیا جاتا ہے۔ ایچ آئی وی / ایڈز کی اسکریننگ ریپڈ ڈائیگناسٹک کٹس کے ذریعے کی جاتی ہے اور ابتدائی RTDs پر مرض کی علامت ظاہر ہونے پر تصدیقی ٹیسٹ PCR (ایچ آئی وی / ایڈز) کیا جاتا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ دونوں ٹیسٹس RTDs اور PCR پر نتیجہ ری ایکٹو آنے پر کیس کو مثبت تصور کیا جاتا ہے۔ ہر مریض کی کاونسلنگ کی جاتی ہے اور بیماری کے حوالے سے اسکی ذہنی صحت کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریض کے رویوں کو ایڈریس کرنا اور کاونسلنگ ایک مستقل جاری عمل ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ جیلوں میں HIV / AIDS کے علاج کے آغاز سے پہلے تمام بیس لائن ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں جن میں CBC، LFTs، RFTs، پیشاب کا تجزیہ (U