پنجاب میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث تباہی کے مناظر سامنے آنے لگے۔
لاہور کے علاقے موہلنوال میں سیلاب میں بہہ جانے والے جہیز کے سامان کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو گورنر پنجاب سلیم حیدر خان فوری طور پر متاثرہ خاندان کے گھر پہنچے اور متاثرین کی دلجوئی کی۔گورنر پنجاب نے کہا کہ نو لڑکیوں کا جہیز سیلابی ریلوں میں بہہ گیا، لیکن ان کی شادیاں اب حکومت پنجاب کی ذمے داری ہیں۔ انہوں نے متاثرہ بچیوں کے والدین کو یقین دلایا کہ شادی کے تمام اخراجات اور جہیز کے انتظامات وہ اپنی ذاتی ذمے داری پر کریں گے۔اس موقع پر گورنر نے اہلِ علاقہ اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، جنہوں نے پانی میں ڈوبے گھروں کی حالتِ زار دکھائی۔ متاثرین نے شکایت کی کہ ابھی تک کوئی حکومتی یا ضلعی انتظامیہ کا نمائندہ ان کے پاس مدد کے لیے نہیں پہنچا، نہ خیمے دیے گئے، نہ کھانے کا انتظام کیا گیا اور نہ ہی طبی سہولت فراہم ہوئی۔
گورنر سلیم حیدر خان نے تسلیم کیا کہ قدرتی آفات کے آگے انسان بے بس ہے، لیکن متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ:سیلاب زدگان کو روزانہ کی بنیاد پر تین وقت کا کھانا فراہم کیا جائے گا۔ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی مدد سے فوری طور پر میڈیکل کیمپس قائم کیے جائیں گے۔موہلنوال کے متاثرہ افراد کے لیے عارضی خیمے لگائے جائیں گے تاکہ انہیں چھت میسر ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ "یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں بلکہ انسانیت کے ناتے متاثرین کی خدمت کرنے کا ہے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی میری اولین ترجیح ہے اور میں ذاتی طور پر ان کی کفالت کروں گا۔"علاقہ مکینوں نے گورنر پنجاب کے اس اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ حکومت عملی طور پر بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔