سیاست میں کوئی دوست دشمن نہیں ہوتا، پالیسی چلتی ہے، وقت کے ساتھ سیاسی دشمن دوست اور دوست سیاسی حریف بھی بن جاتے ہیں
دہشت گردی کے خلاف جس طرح نیشنل ایکشن پلان بنایا اسی طرح زلزلے اور سیلاب کے خلاف بھی نیشنل ایکشن پلان بنانا چاہئے
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے سپیکر نے کہا وہ استعفے منظور نہیں کریں گے لیکن ہمارا فیصلہ اٹل ہے، ہم استعفے واپس نہیں لیں گے کیونکہ یہ بانی پی ٹی آئی کی ڈائریکشن ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ہم 91 ممبران کے ساتھ اسمبلی میں بیٹھے، آج ہمارے پاس 76 ممبران ہیں، پرسوں تک 25 ایم این ایز نے استعفے جمع کروائے تھے، آج تک سارے ایم این ایز کے استعفی ہو گئے، صرف ان ایم این ایز کے رہتے ہیں جو ملک سے باہر ہیں۔انہوں نے کہا دہشت گردی کے خلاف جس طرح نیشنل ایکشن پلان بنایا اسی طرح زلزلے اور سیلاب کے خلاف بھی نیشنل ایکشن پلان بنانا چاہئے، میں سمجھتا ہوں یہ وقت الزامات کا نہیں، لوگ بہت زیادہ متاثر ہو گئے ہیں۔ کوئی ایسی پالیسی ہونی چاہئے جس میں پنجاب یا کے پی نہ ہوں بلکہ پاکستان ہو، نقصان کسی صوبے کا ہو نقصان پاکستان اور ہمارے بھائیوں کا ہے، راوی، سیالکوٹ، وزیر آباد، سوات میں سیلاب کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ بانی کا ہر فیصلہ قابل قبول ہے اور انہوں نے وجوہات بھی بتائی ہیں، سیاست میں کوئی دوست دشمن نہیں ہوتا، پالیسی چلتی ہے، وقت کے ساتھ سیاسی دشمن دوست اور دوست سیاسی حریف بھی بن جاتے ہیں۔انہوں نے کہا محمود اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے کی جہاں تک بات ہے، فی الحال ہمارے پاس عدالت کا حکم امتناع ہے، فی الحال عمر ایوب ہی اپوزیشن لیڈر ہیں، بانی نے محمود اچکزئی کو نامزد ضرور کیا ہے کہ اگر عدالتی سٹے نہیں ملتے تو محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔ ہمارے ایم این ایز عدالتی سزاؤں کے خلاف اپیلیں فائل کر چکے ہیں، چاہے ان پر اعتراض ہو، ایسی عدالتی مثالیں موجود ہیں کہ اگر سزا آپ کی غیر موجودگی میں ہوئی ہے تو آپ کے پاس اپیل کا حق موجود ہے۔