پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیاسی اور کور کمیٹی کے اجلاس میں مذاکرات، احتجاجی مارچ اور خیبرپختونخوا میں ممکنہ ہنگامی اقدامات سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے مذاکراتی پیش رفت سے متعلق رہنماؤں کو بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں سلمان اکرم راجہ کی جانب سے یہ رائے سامنے آئی کہ حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے آپشن پر غور کیے جانے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ اجلاس میں ارکان کی اکثریت نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی حمایت کی۔ذرائع کے مطابق بعض ارکان نے رائے دی کہ اگر حکومت کی جانب سے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو لانگ مارچ ختم کرنے کے بجائے اس کی تاریخ آگے بڑھانے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے سیاسی اور کور کمیٹی اجلاس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بھی شروع ہوگئے ہیں۔
اجلاس میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی صورت میں سیاسی معاملات پر مزید مشاورت ہوسکتی ہے اور ملاقات میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو بھی شامل کیا جائے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران میڈیا پر بیانات نہ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں حکومتی رہنماؤں رانا ثناء اللہ اور شیری رحمٰن کے بیانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت سے متعلق دی گئی بریفنگ اور بیانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں خیبرپختونخوا کی صورتحال اور احتجاجی مارچ سمیت مختلف مطالبات زیر بحث آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض ارکان نے یہ رائے بھی دی کہ اگر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے تو قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کے آپشن پر غور کیا جاسکتا ہے۔