جوڈیشل کمیشن اجلاس کی اندرونی کہانی اور اہم فیصلے سامنے آ گئے

جوڈیشل کمیشن اجلاس کی اندرونی کہانی اور اہم فیصلے سامنے آ گئے

گزشتہ روز ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی اندرونی کہانی اور فیصلہ سازی کے پیچھے کی کہانی منظر عام پر آ گئی ہے۔

 ذرائع کے مطابق، چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی زیرصدارت ہونے والے اس اہم اجلاس میں جسٹس محسن اختر کیانی کو سپریم کورٹ کا جج بنانے سے متعلق رائے مسترد کر دی گئی۔ذرائع کے مطابق، اس اجلاس میں جسٹس منیب اختر نے جسٹس محسن اختر کیانی کو سپریم کورٹ جج بنانے کی تجویز دی، مگر ان کی اس رائے پر کسی بھی دوسرے ممبر نے اتفاق نہیں کیا۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس اہم اجلاس میں جسٹس منیب اختر ہی وہ واحد رکن تھے جنہوں نے جسٹس محسن اختر کیانی کو جج بنانے کے حق میں ووٹ دیا۔اس سے پہلے، اجلاس میں جسٹس ظفر احمد راجپوت کو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور جسٹس محمد کامران ملا خیل کو چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تعینات کرنے کی سفارشات متفقہ طور پر کی گئیں۔ نیز، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ کا مستقل جج تعینات کرنے کی سفارش اکثریتی فیصلے کے ذریعے کی گئی، جبکہ وہ اس وقت ایکٹنگ جج کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق، جسٹس ظفر احمد راجپوت اور جسٹس محمد کامران خان ملا خیل اپنی متعلقہ ہائی کورٹس میں قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ، جوڈیشل کمیشن نے رولز تشکیل دینے کے لیے اکثریتی رائے سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی، جس میں 5 ارکان شامل ہیں: وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس عامر فاروق، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، سینیٹر فاروق نائیک، علی ظفر، اور احسن بھون۔اس اہم اجلاس کی اندرونی کہانیاں اور فیصلے ملک کی عدلیہ کے مستقبل کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتے ہیں، جن سے عدلیہ میں تقرری اور رولز کے حوالے سے نئے اصول و ضوابط مرتب ہوں گے۔