امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحریر میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت، مقامی حکومت کے اختیارات اور احتجاج کے حق سے متعلق صورتحال پر بحث کی گئی ہے۔
رپورٹ کے عنوان کے مطابق جریدہ اس سوال کا جائزہ لیتا ہے کہ کشمیر میں بھارت کی حالیہ احتجاجی تحریکوں سے کیا سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔تحریر کے مطابق جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے 14 اگست کو نئی دہلی کو خطے میں نوجوانوں کی ممکنہ احتجاجی تحریک کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔ بعد ازاں 2 ستمبر کو عمر عبداللہ کی کابینہ کے ارکان نے سری نگر میں احتجاج کیا، تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔دی ڈپلومیٹ کے مطابق جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت 2019 میں ختم کرکے اسے دو یونین ٹیریٹریز، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کیا گیا تھا۔ جریدے کی مارچ 2026 کی ایک اور رپورٹ کے مطابق ریاستی حیثیت کی بحالی اب تک نہیں ہوئی، جبکہ نئی دہلی میں نامزد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اختیارات اور منتخب حکومت کے دائرۂ اختیار کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ عمر عبداللہ کی حکومت اور نئی دہلی کے درمیان ریاستی حیثیت اور انتظامی اختیارات سے متعلق معاملات پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔ تاہم ان مذاکرات کی پیش رفت اور مستقبل کے بارے میں مختلف آرا موجود ہیں۔