بحران حل نہ ہوا تو بڑے پیمانے پر برطرفیاں ہوسکتی ہیں،صدر ٹرمپ کا انتباہ
شٹ ڈائون جاری رہا تو ملازمین 2 روز میں ملازمتوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں
واشنگٹن (آئی این پی )اامریکہ میں اخراجات کا بل منظور نہ ہونے سے حکومت کا کام رک گیا، خلائی ادارے ناسا سمیت متعدد محکمے بند کر دئیے گئے۔ناسا نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر ادارے کی بندش کا اعلان کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ فنڈنگ کی معطلی کے بعد ادارے کی تمام سرگرمیاں روک دی گئیں۔ ادارے کے 15 ہزار سے زائد ملازمین کو عارضی طور پر فارغ کردیا گیا ہے۔ناسا نے اعلان کیا ہے کہ صرف وہی محدود عملہ ڈیوٹی پر موجود رہے گا جو ایسے مشن پر کام کر رہا ہے جنہیں روکنے کی صورت میں خلابازوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے، یا ایسے حساس آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں جس کی حفاظت ضروری ہے۔رپورٹس کے مطابق ساڑھے 7 لاکھ وفاقی ملازمین کو جبری چھٹیوں پر بھیج دیا گیا، کپٹل ہل اور کانگریس لائبریری بھی مہمانوں کے لئے بند کر دی گئی۔شٹ ڈائون سے فضائی سفر بھی متاثر ہوگا، سائنسی تحقیق معطل ہو جائے گی، امریکی فوجیوں کو تنخواہیں نہیں ملیں گی۔ عوام سے متعلق سرگرمیاں بھی بند کردی گئیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر بحران حل نہ ہوا تو بڑے پیمانے پر برطرفیاں ہوسکتی ہیں۔نائب صدر جے ڈی وینس نے بریفنگ میں کہا کہ انہیں معلوم نہیں یہ شٹ ڈائون کب تک چلے گا جبکہ وائٹ ہاس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے بھی خبردار کیا کہ اگر شٹ ڈائون جاری رہا ت
و وفاقی ملازمین اگلے 2 روز میں اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں