پاکستان، چین اور روس خفیہ ایٹمی تجربات کر رہے ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ

پاکستان، چین اور روس خفیہ ایٹمی تجربات کر رہے ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان، چین اور روس خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کر رہے ہیں، حالانکہ امریکہ واحد بڑی طاقت ہے جو ایسا نہیں کر رہا۔

 انہوں نے کہا کہ انہوں نے پینٹاگون کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کریں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا، پاکستان اور دیگر ممالک ایٹمی تجربات کر رہے ہیں، مگر وہ اس کا اعلان نہیں کرتے، جس سے عالمی سطح پر تشویش پیدا ہو گئی ہے کہ شاید امریکہ 1992 کے بعد پہلی بار کوئی نیا ایٹمی تجربہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ٹرمپ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس اتنا بڑا ایٹمی ذخیرہ ہے کہ اسے دنیا 150 مرتبہ تباہ کیا جا سکتا ہے، مگر پھر بھی تجربات ضروری ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ ہتھیار کیسے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس اور چین بھی تجربات کر رہے ہیں، مگر خاموشی سے، اور امریکہ واحد ملک ہے جو ایسا نہیں کر رہا۔ ان کا استدلال ہے کہ امریکہ زیادہ شفاف اور کھلا ہے، کیونکہ ہم سب کچھ عوام کے سامنے رکھتے ہیں، اس لیے دیگر ممالک کو بھی تجربات کرنے چاہییں تاکہ عالمی طاقت میں برابری قائم کی جا سکے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ابھی تک ان الزامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے یہ بیانات امریکہ کی ایٹمی عدم پھیلاؤ کی پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہیں، کیونکہ اگر امریکہ بھی ایٹمی تجربات شروع کرتا ہے تو اس سے بین الاقوامی معاہدوں اور عالمی امن کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ بیانات اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ ممکن ہے کہ امریکہ اپنی ایٹمی ہتھیاروں کی مشق اور تجربات دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو کہ بین الاقوامی سطح پر کشیدگی اور عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔