روس کی امریکا کو وارننگ: جوہری تجربات سے باز رہے، جوابی اقدامات کا عندیہ

روس کی امریکا کو وارننگ: جوہری تجربات سے باز رہے، جوابی اقدامات کا عندیہ

روس نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت ممکنہ جوہری تجربے سے باز رہے، بصورت دیگر روس جوابی اقدامات پر غور کرے گا۔

 روس کے ڈپٹی وزیردفاع سرگئی ریبکووف نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگر امریکا نے جوہری ٹیسٹ کا فیصلہ کیا تو روس خاموش نہیں رہے گا اور مناسب ردعمل کے لیے متعدد اقدامات کرے گا۔

پس منظر
ڈپٹی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے (نیوکلئیر ٹیسٹ بین ٹریٹی) کے حوالے سے انتہا پسندانہ موقف اختیار کیا تھا۔ یہ معاہدہ عالمی سطح پر جوہری تجربات پر پابندی کا ضامن ہے۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ کی ممکنہ خلاف ورزی کے پیش نظر روس اپنی قومی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

روسی مؤقف
سرگئی ریبکووف نے مزید کہا کہ دنیا اس وقت پیچیدہ حالات سے گزر رہی ہے، اور امریکا روس کے لیے مسلسل مخالفانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا:"امریکا کی دشمنانہ پالیسیوں کے باوجود روس اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔ ہم سیاسی طور پر مثبت تعلقات چاہتے ہیں، مگر ان سے زیادہ توقعات نہیں رکھنی چاہیے۔"
امریکا کا جوہری تجرباتی پس منظر
امریکا نے آخری بار 1992 میں جوہری تجربہ کیا تھا۔ حالیہ خبروں کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ جوہری تجربے کے امکان پر غور کر رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

نتیجہ
روس نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن جوہری تجربات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرتا ہے تو دنیا میں عدم استحکام مزید بڑھے گا، اور روس اپنے دفاع کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں دیر نہیں کرے گا۔