پنجاب بار کونسل الیکشن، احسن بھون گروپ کی واضح برتری

انڈیپنڈنٹ گروپ 45 نشستوں پر کامیاب، پی ٹی آئی امیدوار صرف 15 سیٹیں لے سکے
کامیاب ممبران کووزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی مبارکباد،نتائج کا حتمی اعلان 17 نومبر کو ہوگا
لاہور (زیڈ این این) پنجاب بار کونسل کے انتخابات کے غیر حتمی، غیر سرکاری نتائج کے مطابق احسن بھون کے انڈیپنڈنٹ گروپ نے 45 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار صرف 15 سیٹوں پر کامیاب ہو سکے ہیں۔انتخابات کی 15 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی کا عمل تاحال جاری ہے۔ الیکشن کے حتمی نتائج 17 نومبر کو باضابطہ طور پر جاری کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے انڈیپنڈنٹ گروپ کو کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ وکلا برادری کی جمہوری سوچ کی عکاسی ہے۔پنجاب بار کونسل کے 5 سالہ مدت کے لیے انتخابات ہفتہ کے روز منعقد ہوئے۔ انتخابی معرکے میں عاصمہ جہانگیر انڈیپنڈنٹ گروپ اور حامد خان پروفیشنل گروپ کے درمیان 75 نشستوں پر سخت مقابلہ ہوا۔ ایک لاکھ 32 ہزار سے زائد وکلا نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔لاہور کی 16 نشستوں پر 77 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا، جہاں 31 ہزار سے زائد وکلا نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ معروف قانون دانوں میں چودھری اعتزاز احسن، احسن بھون، حامد خان، اشفاق بھلر اور سردار لطیف کھوسہ سمیت وکلا کی بڑی تعداد نے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔پنجاب بار کونسل کے انتخابات کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں 52 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے۔ عدلیہ کے جوڈیشل افسران نے پریزائیڈنگ آفیسرز کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پولنگ صبح ساڑھے آٹھ بجے شروع ہو کر شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہی، دورانِ پولنگ ایک گھنٹے کا وقفہ رکھا گیا۔پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی مہم، نعرے بازی یا اجتماع پر مکمل پابندی عائد رہی۔ فین روڈ، ٹرنر روڈ اور سپریم کورٹ رجسٹری روڈ عام ٹریفک کے لیے بند رہے۔ ووٹرز کو مسجد گیٹ، مال روڈ گیٹ اور ٹرنر روڈ گیٹ سے داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔قبل ازیں، سربراہ انڈیپنڈنٹ گروپ احسن بھون نے ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرح پنجاب بار کونسل کے الیکشن میں بھی انڈیپنڈنٹ گروپ کامیابی حاصل کرے گا۔ دوسری جانب پروفیشنل گروپ کے رہنما حامد خان اور لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر آصف نسوانہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے گروپ کی فتح یقینی ہے۔