محکمہ وائلڈ لائف پنجاب نے صوبہ بھر میں جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
اس ضمن میں لاہور، خوشاب، بھکر اور لیہ میں متعدد کارروائیاں کی گئیں، جس میں 15 بٹیر اور 20 تیتر کے بچے برآمد کیے گئے۔دوران کارروائی، کوٹ مومن سے چھ تیتر کے بچوں کو لاہور منتقلی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ برآمد شدہ پرندوں کو جلو وائلڈ لائف پارک منتقل کر دیا گیا۔ مزید کارروائیوں میں نور پور تھل سے 8، بھکر سے 2 اور لیہ سے 4 تیتر کے بچے برآمد ہوئے، جنہیں منی زو بھکر منتقل کر دیا گیا۔اس دوران خوشاب کی تحصیل نور پور تھل سے ایک ڈیلر کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف نے اعلان کیا ہے کہ بریڈنگ سیزن میں جنگلی پرندوں کی نیٹنگ کے ذریعے پکڑ کر فروخت کرنے والے پوچرز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔سینئر صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت مریم اورنگزیب نے ان کارروائیوں کو جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ حکومت پنجاب جنگلی جانوروں اور پرندوں کے قدرتی ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔