ویب ڈیسک: سکیورٹی ذرائع اور مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیاں اور بھارتی فوج ایک نہایت شرمناک اور خطرناک منصوبے پر عملدرآمد کی تیاری کر رہی ہیں جس کے تحت جبراً اور غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے بیسیوں معصوم پاکستانی شہریوں کو جعلی مقابلوں (فیک انکاؤنٹرز) میں مار کر انہیں سرحد پار دہشت گرد قرار دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ان پاکستانیوں کو، جو اس وقت مختلف بھارتی جیلوں اور ایجنسیوں کی خفیہ حراست میں ہیں، مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں نکال کر منصوبہ بندی کے تحت قتل کر دیا جائے گا۔ ان افراد کی لاشوں کے ساتھ پلانٹڈ ہتھیار، جعلی شناختی دستاویزات، اور دیگر مواد رکھ کر بھارتی میڈیا کو فراہم کر دیا جائے گا تاکہ روایتی بھارتی پروپیگنڈے کے مطابق انہیں پاکستان سے بھیجے گئے دہشت گرد ظاہر کیا جا سکے۔یہ مذموم منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پہلگام حملے کو ممکنہ طور پر بھارت کی طرف سے ایک "فالس فلیگ آپریشن" قرار دیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر منفی بیانیہ قائم کرنے کی کوشش تھی، مگر وہ بے نقاب ہو گیا۔سکیورٹی حکام کے مطابق، بھارت ان قیدیوں میں سے بعض کو مارنے کی بجائے زندہ بھی میڈیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے اور ان سے زبردستی پاکستان مخالف بیانات اور جھوٹے اعتراف جرم دلوائے جا سکتے ہیں تاکہ دنیا کے سامنے پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے 29 اور 30 اپریل کو اپنی پریس کانفرنسز میں اس اہم معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ 723 پاکستانی شہری بھارتی جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مزید 56 ایسے افراد کی تفصیلات بھی شیئر کی تھیں جنہیں بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے زبردستی لاپتہ کر رکھا ہے۔پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس قسم کے اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ جنوبی ایشیاء میں امن اور استحکام کو شدید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد ایک مرتبہ پھر پاکستان کو عالمی سطح پر دہشت گردی سے جوڑنے کی مذموم کوشش ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بھارت کے اس منصوبے کا فوری نوٹس لیں اور غیر قانونی طور پر قید پاکستانیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔