اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے اور اہم کمانڈرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز ن نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان پر حملے میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے حزب اللہ کے خلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور یہ کارروائیاں وزیراعظم نیتن یاہو کی ہدایت پر کی جا رہی ہیں۔اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور انہوں نے اسرائیلی فوج کو حزب اللہ کے خلاف طاقت کے ساتھ کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس سے قبل اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بیان میں کہا تھا کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک بڑے ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان کے مطابق اس کارروائی میں حزب اللہ کے ایک اہم رہنما کو نشانہ بنایا گیا، تاہم مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
دوسری جانب حزب اللہ نے فوری طور پر اپنے سربراہ نعیم قاسم کے بارے میں اسرائیلی دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی، البتہ تنظیم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔فلسطین کی تنظیم Islamic Jihad Movement in Palestine نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے بیروت میں حملے میں ان کے ایک اہم کمانڈر 41 سالہ ادھم العثمان ساتھیوں سمیت مارے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ لبنانی محاذ پر القدس بریگیڈز کے کمانڈر تھے۔واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔