اسرائیلی فوج کا حزب اللّٰہ کے ٹھکانے پر حملہ، ناقورہ میں انفراسٹرکچر سائٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

اسرائیلی فوج کا حزب اللّٰہ کے ٹھکانے پر حملہ، ناقورہ میں انفراسٹرکچر سائٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

یروشلم/بیروت : اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان کے جنوبی علاقے ناقورہ میں ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللّٰہ کی ایک اہم انفراسٹرکچر سائٹ پر حملہ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کا مؤقف:
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے:"گزشتہ شب اسرائیلی بحریہ نے جنوبی لبنان کے شہر ناقورہ میں حزب اللّٰہ کی رضوان فورس کی انفراسٹرکچر سائٹ کو نشانہ بنایا۔"مزید کہا گیا کہ:"یہ مقام اسرائیلی شہریوں پر ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔"
حملے کا پس منظر:
یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایک روز قبل اسرائیلی وزیر دفاع نے حزب اللّٰہ کو ایران-اسرائیل جنگ میں مداخلت سے باز رہنے کی سخت وارننگ دی تھی۔

حزب اللّٰہ کا عندیہ:
اسرائیلی حملے سے قبل حزب اللّٰہ نے واضح کیا تھا کہ اگر:"ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا، تو حزب اللّٰہ غیر جانبدار نہیں رہے گی۔"یہ بیان خطے میں ایران-اسرائیل کشیدگی کے دائرہ اثر کو وسعت دینے کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں اب لبنانی محاذ بھی تیزی سے فعال ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

 تجزیہ:
اسرائیلی دعویٰ اگر درست ہے تو یہ ایک پیشگی دفاعی حکمت عملی ہو سکتی ہے تاکہ حزب اللّٰہ کی ممکنہ مداخلت کا پہلے سے سدباب کیا جا سکے۔حزب اللّٰہ کا ایران کے ساتھ کھڑا ہونے کا عندیہ اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ بن سکتا ہے، خاص طور پر شمالی سرحد پر۔