واشنگٹن: فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ صدر کو انہیں عہدے سے برطرف کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔
چند روز قبل صدر ٹرمپ نے ایک خط کے ذریعے کُک کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ لیزا کُک نے مبینہ طور پر 2021ء میں رہائشی قرضوں کے معاملات میں فراڈ کیا تھا اور اس بنیاد پر وہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتیں۔لیزا کُک نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کی برطرفی کی کوشش غیر قانونی اور ادارے کی خودمختاری کے خلاف ہے۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ فیڈرل ریزرو ایک آزاد ادارہ ہے اور امریکی قانون کے تحت اس کے کسی گورنر کو صرف سنگین بدعنوانی یا فرائض کی خلاف ورزی کی صورت میں ہٹایا جا سکتا ہے۔ تاریخ میں آج تک کسی صدر نے براہِ راست کسی گورنر کو برطرف نہیں کیا۔کُک کو 2022ء میں سابق صدر جو بائیڈن نے اس عہدے پر تعینات کیا تھا اور وہ فیڈرل ریزرو کی تاریخ میں پہلی سیاہ فام خاتون ہیں جو گورننگ بورڈ کا حصہ بنی ہیں۔