اسلام آباد(آئی این پی )وزیراعظم کی سربراہی میں ہائی پاورڈسلیکشن بورڈکااجلاس2سال بعد بھی نہ ہوسکا، بلاول بھٹو کو بورڈ میں شرکت کی دعوت کے فیصلے کے باوجود اجلاس التواء کا شکار ہے، گریڈ 22 میں ترقی کا خواب لیے کئی افسران گریڈ 21 کے انتظارمیں ہی ریٹائرڈ ہوگئے۔ذرائع کے مطابق درجنوں آسامیاں دستیاب ہونے کے باوجود بورڈ نہ ہونے سے گریڈ 22 میں ترقیاں تاخیر کا شکار ہیں۔ذرائع کے مطابق بورڈاجلاس میں تاخیرسے پولیس سروس کے غلام رسول گریڈ21میں ریٹائر ہوئے، پولیس سروس کے احسان صادق کو بھی گریڈ 22 نہ مل سکا اور وہ بھی ریٹائر ہوچکے، پولیس سروس کے اشتیاق احمد، فیاض احمد، سلطان علی خواجہ، عبد القادر قیوم، صابراحمد اور خالد خٹک بھی گریڈ21 میں ریٹائر ہوچکے ہیں۔ذرائع کے مطابق بورڈ میں تاخیرکے سبب پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسزکے خاقان مرتضیٰ اور حسن اقبال گریڈ 21 میں ریٹائر ہوئے،سیکرٹریٹ گروپ کے بھی کئی افسران گریڈ 21 میں ریٹائرڈ ہوگئے جن میں ڈاکٹرعامر ارشاد شیخ،عامر محمود حسین،سیدخالد رضا، محمد سلمان، معراج انیس عارف، سلیم خان اور منیراحمد بھی گریڈ 21 میں ریٹائر ہوگئے۔ذرائع کے مطابق ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ میں گریڈ 21 سے 22 میں ترقیوں کے کیسز زیرغور آتے ہیں، آخری بارہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس مارچ 2023میں ہوا تھا۔دوسری جانب گریڈ 20اور 21میں ترقیوں کے لیے سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس رواں ماہ شیڈول ہے، سینٹرل سلیکشن بورڈ اجلاس کی صدارت چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن کریں گے، سنٹرل سلیکشن بورڈکا اجلاس ڈیڑھ سال سے التواء کا شکار تھا۔