نصف سے زائد بجٹ قرض ادائیگی میں جائیگا، 118 سے زائد منصوبے بند کردئیے احسن اقبال

سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا  اجلاس ، بجٹ کیلئے   معاشی اہداف کی منظوری ، جی ڈی پی گروتھ 4.2 فیصد مقرر‘ زرعی شعبے کی گروتھ کا ہدف 4.5 فیصدرکھنے کی تجویز

ترقیاتی منصوبوں پر ایک ہزار ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ، وفاقی حکومت ترقیاتی منصوبوں کیلئے بیرون ملک سے 270 ارب قرض لے گی:وفاقی وزیر کی اجلاس میں گفتگو
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر منصوبہ بندی  احسن اقبال نے کہا ہے  نصف سے زائد بجٹ قرضوں کی ادائیگی میں جائے گا، 118 سے زائد غیر ضروری منصوبے  بندکیے ہیں،، قومی سطح پر ریونیو میں اضافہ کرنا ہو گا،معاشی چیلنجز کے باعث قومی ترقیاتی بجٹ میں مسلسل کمی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے،ترقیاتی بجٹ کی رقم رواں سال کے مقابلے میں 100 ارب روپے کم ہے۔ان  خیالات کااظہار انہوںنے سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی سی سی) کے ا ہم اجلاس کی  صدارت  کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں   وفاقی وزیر خالد مقبول، مختلف وفاقی سیکریٹریز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں کے نمائندے، قومی و صوبائی اداروں کے سربراہان اور دیگر اعلی حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امتیاز نے شرکا کو آئندہ سالانہ ترقیاتی منصوبہ، معاشی روڈ میپ اور ترجیحی اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی۔سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں بجٹ برائے مالی سال  2025-26 کیلئے اہم  معاشی اہداف کی منظوری دے دی گئی ۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے اور ترقیاتی منصوبوں پر ایک ہزار ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے، صوبے 609 ارب روپے زیادہ خرچ کریں گے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت ترقیاتی منصوبوں کے لیے بیرون ملک سے 270 ارب قرض لے گی، اس کے علاوہ چاروں صوبے بھی 802 ارب روپے کا بیرونی قرضہ لیں گے۔پنجاب حکومت ترقیاتی منصوبوں پر 1190 ارب خرچ کرے گی، اگلے سال سندھ حکومت نے 887 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام تیار کیا ہے، خیبرپختونخوا کی جانب سے 440 ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے جبکہ بلوچستان حکومت اگلے سال ترقیاتی منصوبوں پر 280 ارب خرچ کرے گی۔ذرائع  کے مطابق  آئندہ سال تعمیراتی شعبے کا گروتھ ریٹ 3.8 فیصدمقررکرنے کی  تجویز ہے۔ شعبہ خدمات کی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ قومی بچت کا 14.3 فیصد،سرمایہ کاری بہ لحاظ جی ڈی پی 14.7 فیصدہدف ہوگا۔ اگلے مالی سال کے لئے کرنٹ اکائونٹ خسارے کا ہدف 0.4 فیصد ہوگا جب کہ پبلک انویسٹمنٹ ہدف 3.2 اور نجی سرمایہ کاری کا ہدف 9.8 فیصد ہوگا۔بھارت کی دھمکیوں کے بعد دیامر بھاشا ڈیم کی جلد تعمیر لازم ہوگئی ہے، قراقرم ہائی وے فیز ٹو کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے، این 25 کراچی کوئٹہ چمن شاہراہ کی تعمیر کی جائے گی، حیدر آباد سکھر موٹروے بھی ترجیحات میں شامل ہے