امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی (USCIRF) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ (RAW) پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے اور انکشاف کیا ہے کہ یہ ایجنسی ماورائے عدالت قتل، ٹارگٹ کلنگ اور اقلیتوں پر مظالم میں ملوث ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’را‘ منظم طور پر سکھوں، مسلمانوں، دلتوں اور مسیحیوں کو نشانہ بنا رہی ہے، جس سے عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’را‘ نے حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر بھارتی میڈیا کو کنٹرول کیا اور داخلی تنقید کو دبانے کے لیے خفیہ نگرانی، جھوٹے مقدمات اور خوف و ہراس کی پالیسی اپنائی۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں اقلیتوں پر حملوں اور نفرت انگیز جرائم میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 1200 سے زائد نفرت انگیز واقعات سامنے آئے ہیں جن میں براہ راست ’را‘ کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
امریکی کمیشن نے متنبہ کیا ہے کہ ’را‘ کی سرگرمیاں نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پر بھی انسانی حقوق اور امن کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 1100 سے زائد اقلیتی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ڈیٹا میں ردوبدل کر کے عالمی سطح پر پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔اس رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر بھارت پر سفارتی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور یورپی ممالک نے اس رپورٹ پر عملی قدم اٹھایا تو ’را‘ پر عالمی سطح پر سخت پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔