مسلسل بمباری، نقل مکانی، خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی کمی ہو گئی ، غزہ کا 90 فیصد سے زائد حصہ مکمل طور پر تباہ
80 فیصد علاقے پر اسرائیلی فوج قابض ہے‘ 20 ہزار 500 سے زائد بچے جنگ کے دوران شہید ہو چکے ہیں:رپورٹ
غزہ(آئی این پی )غزہ میں اسرائیل کی جانب سے چھیڑی گئی تباہ کن جنگ کو ایک ہزار دن مکمل ہوگئے جہاں لاکھوں فلسطینیوں کے لئے ہر نیا دن ایک نئے امتحان کے ساتھ طلوع ہوتا ہے، مسلسل بمباری، نقل مکانی، خوراک اور ادویات کی قلت اور بنیادی سہولیات کی تباہی نے غزہ کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شامل کر دیا ہے۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کا 90 فیصد سے زائد حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، غزہ کے تقریبا 80 فیصد علاقے پر اسرائیلی افواج نے زمینی کارروائیوں، فضائی حملوں اور جبری نقل مکانی کے احکامات کے ذریعے قبضہ کر لیا ہے۔اسرائیل اب تک غزہ پر 2 لاکھ 23 ہزار ٹن دھماکا خیز مواد گرا چکا ہے، جو 1945 میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکہ کی جانب سے گرائے گئے ایٹم بم کی تباہ کن قوت سے 16 گنا زیادہ ہے۔7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ کے دوران غزہ میں کم از کم 73,066 فلسطینی جاں بحق جبکہ 173,514 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 9500 افراد لاپتا بھی ہیں