تنخواہوں میں اضافے پر خواجہ آصف کی تنقید، ایاز صادق نے وزیر اعظم سے رجوع کرلیا

تنخواہوں میں اضافے پر خواجہ آصف کی تنقید، ایاز صادق نے وزیر اعظم سے رجوع کرلیا

قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے اسپیکر و چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے پر وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے کی گئی تنقید پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، ایاز صادق نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے کے فیصلے سے ان کا کوئی تعلق نہیں، یہ فیصلہ وفاقی کابینہ اور وزیر اعظم کی منظوری سے ہوا ہے۔ اسپیکر نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر وزیر اعظم چاہیں تو ان کی تنخواہ نہ بڑھائیں، وہ اپنی تنخواہ کا فیصلہ وزیر اعظم پر چھوڑتے ہیں۔

ایاز صادق کا خط: خواجہ آصف کے الزامات پر خاموشی
خط کے متن میں ایاز صادق نے خواجہ آصف کے الزامات یا سوشل میڈیا تنقید کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا تاہم اپنی پوزیشن واضح کی کہ تنخواہ و مراعات میں اضافے کا اختیار اسپیکر کے پاس نہیں۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر ایاز صادق اس معاملے پر غیر ضروری تنازع سے بچنا چاہتے ہیں۔

خواجہ آصف کی سخت تنقید: "مالی فحاشی" قرار
واضح رہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک بیان میں اسپیکر، چیئرمین سینیٹ اور دیگر اعلیٰ حکام کی تنخواہوں و مراعات میں اضافے کو "مالی فحاشی" قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ:"قومی خزانے کے استحصال کی یہ ایک بدترین مثال ہے، ہمیں عام آدمی کی زندگی اور اس کے مسائل کو مدنظر رکھنا چاہیے، کیونکہ ہماری تمام عزت و آبرو اسی کے دم سے ہے۔"خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی موجودہ لہر میں عوام کو ریلیف دینا حکومتی ترجیح ہونی چاہیے نہ کہ خواص کے لیے مراعات کا غیر معمولی اضافہ۔

سیاسی صفوں میں تناؤ کی فضا
ایاز صادق اور خواجہ آصف دونوں کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے، تاہم اس تنقید اور خط کے بعد پارٹی کے اندرونی معاملات اور بیانیے میں اختلافات کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ حکومتی صفوں میں موجود رائے کے فرق اور کفایت شعاری کی بڑھتی ہوئی عوامی توقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔