وزیراعظم نے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا، خواجہ آصف نے بھی شدید تنقید کی

وزیراعظم نے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا، خواجہ آصف نے بھی شدید تنقید کی

اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں ہونے والے غیرمعمولی اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے دونوں عہدے داروں سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

 اس فیصلے کے خلاف ملک بھر میں شدید عوامی ردعمل اور سیاسی حلقوں میں بھی واضح اختلاف سامنے آیا ہے۔

عوامی نمائندوں کی تنخواہوں میں "غیرمعمولی" اضافہ
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور سینیٹ کے چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین کی تنخواہوں میں حالیہ دنوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی بجٹ 2025-2026 میں عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

خواجہ آصف کا سخت ردعمل
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں تنخواہوں میں اضافے کو "مالی فحاشی" قرار دیا۔ انہوں نے لکھا:"اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں اور مالی مراعات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ موجودہ معاشی حالات میں قابل قبول نہیں، یہ مالی فحاشی کے زمرے میں آتا ہے۔ ہمیں عام آدمی کی مشکلات کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔ ہماری عزت، آبرو اور اقتدار کا مرکز عوام ہیں۔"
سیاسی اور عوامی ردعمل
عوامی حلقوں میں اس اقدام پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔کئی سول سوسائٹی گروپس اور معاشی ماہرین نے اسے عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔اپوزیشن جماعتوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ یہ اضافہ فی الفور واپس لیا جائے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام سے اس معاملے کی تفصیلات پر مبنی رپورٹ طلب کر لی ہے، جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم اس اضافے پر نظرثانی کا حکم دے سکتے ہیں۔