غزہ جنگ بندی کا مجوزہ منصوبہ: 60 روزہ معاہدہ 5 مراحل پر مشتمل، قیدیوں اور لاشوں کا تبادلہ شامل

غزہ جنگ بندی کا مجوزہ منصوبہ: 60 روزہ معاہدہ 5 مراحل پر مشتمل، قیدیوں اور لاشوں کا تبادلہ شامل

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد غزہ میں متوقع 60 روزہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

 ایک امریکی اخبار نے اس ممکنہ معاہدے کے پانچ اہم مراحل پر مشتمل خدوخال جاری کیے ہیں، جس میں قیدیوں کے تبادلے، لاشوں کی واپسی، اور غزہ کے انتظامات جیسے نازک نکات شامل ہیں۔

 پہلا مرحلہ: انسانی بنیادوں پر یرغمالیوں کی رہائی
ذرائع کے مطابق جنگ بندی کا آغاز 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے ہوگا جبکہ 18 اسرائیلیوں کی لاشیں بھی واپس کی جائیں گی۔ اس کے بدلے میں درجنوں فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کی تقریب منعقد نہیں کی جائے گی تاکہ سیاسی سطح پر کوئی فریق جنگ بندی کو اپنے فائدے میں استعمال نہ کرے۔

 دوسرا تا پانچواں مرحلہ: مکمل جنگ بندی، امداد، تعمیر نو اور انتظامی تبدیلیاں
اخباری ذرائع کے مطابق بقیہ مراحل میں درج ذیل نکات شامل ہیں:فائر بندی کا نفاذ: تمام فریقین فائر بندی پر متفق ہوں گے جسے مرحلہ وار وسعت دی جائے گی۔غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی: بین الاقوامی تنظیمیں، اقوام متحدہ، قطر اور مصر کی نگرانی میں خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا۔تعمیر نو کی اجازت: جنگ سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کی اجازت دی جائے گی، خاص طور پر اسپتال، اسکول، پانی و بجلی کے نظام کی بحالی۔غزہ کا نیا انتظام: ایک عبوری سیٹ اپ کے تحت چار عرب ممالک – جن میں مصر، اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہو سکتے ہیں – غزہ کے سویلین انتظامی امور سنبھالیں گے۔
 صدر ٹرمپ کا دعویٰ اور سفارتی کوششیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے 60 دن کی جنگ بندی کی بنیادی شرائط تسلیم کر لی ہیں۔ اس کے بعد قطر اور مصر کی ثالثی میں معاہدے کے حتمی مسودے پر کام جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "ہم امید رکھتے ہیں کہ اس معاہدے سے غزہ میں انسانی بحران کم ہوگا اور ایک پائیدار حل کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔"

 قبل ازیں اسرائیلی میڈیا کا بڑا دعویٰ
یاد رہے کہ 26 جون کو ایک اسرائیلی اخبار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ غزہ جنگ اگلے دو ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے، اور اس کے بعد حماس کی جگہ عرب ممالک کو عبوری انتظامی اختیار دیا جائے گا تاکہ خطے میں استحکام لایا جا سکے۔

 تجزیہ: جنگ بندی یا عبوری تبدیلی؟
ماہرین کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کا مقصد صرف جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ غزہ کی موجودہ سیاسی و عسکری صورتحال میں بنیادی تبدیلی لانا ہے، جس میں حماس کے اثر کو کم کرنا اور بین الاقوامی نگرانی کے تحت تعمیر نو کو فروغ دینا شامل ہے۔