دیر: جے یو آئی تحصیل براول کے امیر مفتی حبیب اللہ حقانی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا

دیر: جے یو آئی تحصیل براول کے امیر مفتی حبیب اللہ حقانی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا

ویب ڈیسک: خیبر پختونخوا کے ضلع دیر میں جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) تحصیل براول کے امیر اور ممتاز مذہبی رہنما مفتی حبیب اللہ حقانی کو فائرنگ کرکے شہید کر دیا گیا۔

 واقعے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس اور غم کی لہر دوڑا دی ہے۔

 واقعے کی تفصیلات
پولیس کے مطابق:یہ واقعہ گزشتہ شب پیش آیا جب نامعلوم مسلح افراد نے مفتی حبیب اللہ کے گھر میں گھس کر ان پر فائرنگ کر دی۔حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔
مقتول کو موقع پر ہی شہید کر دیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

 نمازِ جنازہ کا اعلان
مفتی حبیب اللہ حقانی کی نمازِ جنازہ آج دوپہر 2 بجے
مقام: کو بین بالا اسکول، براول
جنازے میں علماء کرام، جے یو آئی کے کارکنان، سیاسی و سماجی شخصیات اور مقامی افراد کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
 سیاسی و مذہبی ردعمل
جے یو آئی کی قیادت نے مفتی حبیب اللہ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق:"مفتی صاحب ایک سچے، نڈر، باعمل عالم دین اور جماعت کا قیمتی اثاثہ تھے۔ اُن کا قتل ناقابل برداشت سانحہ ہے۔"علماء اور عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

 پس منظر اور خدمات
مفتی حبیب اللہ حقانی:

ایک نرم گو، باعمل اور علمی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے
وہ جمعیت علماء اسلام تحصیل براول کے امیر تھے
مقامی سطح پر دینی تعلیم، اصلاحی سرگرمیوں اور فلاحی کاموں میں پیش پیش رہے
 تحقیقات اور سیکیورٹی اقدامات
پولیس نے واقعے کے بعد:

علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے
مختلف مقامات پر ناکے اور چیکنگ پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں
قریبی افراد اور مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ بھی جاری ہے
 یہ واقعہ خیبر پختونخوا میں علماء کرام کی سیکیورٹی کے حوالے سے اہم سوالات کھڑا کرتا ہے۔ عوامی سطح پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ علماء اور مذہبی شخصیات کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔