ویب ڈیسک: صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں واقع آدن اَدی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر افریقی یونین کا ایک فوجی ہیلی کاپٹر لینڈنگ سے چند لمحے قبل گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 3 شدید زخمی ہو گئے۔
حادثے کی تفصیلات
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، ہیلی کاپٹر نے بالی ڈوگل ایئرفیلڈ سے پرواز بھری تھی اور جب وہ موغادیشو ایئرپورٹ کے قریب لینڈ کرنے والا تھا تو اچانک زمین پر آ گرا۔ گرنے کے فوراً بعد زور دار دھماکوں کے ساتھ آگ بھڑک اُٹھی، جس نے نہ صرف ہیلی کاپٹر کو تباہ کر دیا بلکہ قریبی عمارتوں کو بھی متاثر کیا۔
ہیلی کاپٹر میں کل 8 افراد سوار تھے:
5 اہلکار موقع پر جاں بحق
پائلٹ، معاون پائلٹ اور ایک انجینئر شدید زخمی
زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
گولہ بارود کے دھماکوں کی تصدیق
صومالی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کے دوران ہیلی کاپٹر میں موجود گولہ بارود پھٹنے سے دھماکے ہوئے۔ تاہم یہ تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ:گولہ بارود ہیلی کاپٹر کے اندر موجود تھا یا زمین پر رکھا گیا تھا۔
عینی شاہدین کا بیان
موقع پر موجود عینی شاہدین کے مطابق:“ہیلی کاپٹر کو فضا میں غیر معمولی انداز میں گھومتے اور لڑکھڑاتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد وہ زمین کی جانب تیزی سے آ گرا۔”عینی شاہدین نے حادثے کے فوراً بعد دھماکوں اور آگ کے شعلوں کو بلند ہوتے دیکھا۔
افریقی یونین مشن: AUSSOM کی موجودگی
یہ حادثہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب افریقی یونین کا AUSSOM (African Union Transition Mission in Somalia) مشن صومالیہ میں سرگرم عمل ہے۔ اس مشن میں:
11 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں
جن کا تعلق یوگنڈا، کینیا، برونڈی اور دیگر افریقی ممالک سے ہے
یہ اہلکار صومالیہ میں امن قائم کرنے، شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی اور فوجی تربیت کے لیے تعینات ہیں۔
تحقیقات کا آغاز
صومالی حکومت اور افریقی یونین کے اعلیٰ حکام نے حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ تکنیکی ماہرین اور فوجی انٹیلی جنس ادارے اس پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں کہ:
کیا حادثہ تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا؟
یا کسی دھماکہ خیز مواد کے باعث پیش آیا؟
بین الاقوامی ردعمل اور افسوس
افریقی یونین، اقوام متحدہ، اور علاقائی حکام کی جانب سے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، اور جاں بحق اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔