لاہور: جمعیت علماء اسلام (ف) پنجاب کے امیر، ممتاز عالم دین اور جامعہ مدنیہ جدید، رائیونڈ روڈ لاہور کے مہتمم مولانا سید محمود میاں طویل علالت کے بعد وفات پا گئے۔
ان کی عمر کے آخری ایّام بیماری میں گزرے اور بالآخر 2 جولائی کی شب انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔
نمازِ جنازہ اور تدفین
مولانا سید محمود میاں کی نمازِ جنازہ آج صبح 10 بجے جامعہ مدنیہ جدید، رائیونڈ روڈ لاہور میں ادا کی گی۔ نمازِ جنازہ میں دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، علمائے کرام، طلباء اور ان کے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
خاندانی پس منظر
مولانا سید محمود میاں ایک عظیم دینی اور روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے:ان کے والد مولانا سید حامد میاں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر رہ چکے ہیں۔ان کے دادا مولانا سید محمد میاں، تحریک آزادی کے معروف رہنما اور جمعیت علماء ہند کے مرکزی ناظم تھے۔مولانا سید محمد میاں نے معروف دینی ادارے مدرسہ شاہی، مراد آباد (ہندوستان) میں خدمات انجام دیں، اور وہاں وہ مولانا مفتی محمود (جمعیت علماء اسلام کے بانی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا) کے بھی استاد رہے۔
دینی خدمات
مولانا سید محمود میاں نے جامعہ مدنیہ جدید لاہور کو ایک ممتاز دینی ادارے کے طور پر قائم کیا، جہاں قرآن و حدیث، فقہ، عربی زبان اور دیگر اسلامی علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب منتظم تھے بلکہ ایک باوقار مدرس، خطیب اور روحانی رہنما بھی تھے۔ان کی سربراہی میں جامعہ مدنیہ جدید نے سینکڑوں طلبہ کو علم دین سے آراستہ کیا، اور کئی علماء، خطباء اور مفتیان دین ان کے شاگردوں میں شامل ہوئے۔ ان کا شمار جمعیت علماء اسلام (ف) پنجاب کے سینئر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔
ملی و سیاسی کردار
مولانا محمود میاں نے دینی سیاست میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ وہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے ساتھ مضبوط وابستگی رکھتے تھے اور مختلف مواقع پر پارٹی کی قیادت کو علمی و نظریاتی رہنمائی فراہم کرتے رہے۔ ان کی نرم گفتاری، باوقار شخصیت، اور علمی وجاہت کی بدولت ہر مکتبِ فکر میں ان کی عزت کی جاتی تھی۔
قوم ایک علمی و روحانی سرمائے سے محروم ہو گئی
مولانا سید محمود میاں کی وفات سے پاکستان ایک باعلم، نیک سیرت اور مخلص دینی رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔ علما کرام اور مذہبی حلقوں نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں۔