وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے الیکشن کمیشن کے دوبارہ اثاثوں سے متعلق نوٹس کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
علی امین گنڈا پور کی جانب سے دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست کا مواد: علی امین گنڈا پور کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ اور صوبائی حلقہ 113 سے منتخب رکن اسمبلی ہیں۔ انہوں نے اپنے اثاثوں اور گوشواروں کا تمام ریکارڈ الیکشن سے پہلے متعلقہ حکام کے پاس جمع کروایا تھا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے جانچ پڑتال کے بعد انہیں اہل قرار دیا تھا۔
الیکشن کمیشن کا نوٹس: الیکشن کمیشن نے اپریل 2024 میں علی امین گنڈا پور کو اثاثوں سے متعلق نوٹس جاری کیا تھا، جس پر پشاور ہائی کورٹ نے کارروائی معطل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اس پر عملدرآمد سے روک دیا تھا۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے 20 نومبر 2024 کو دوبارہ اثاثوں کے بارے میں نوٹس جاری کیا۔
درخواست میں موقف: علی امین گنڈا پور نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ جب ایک بار کامیاب امیدوار کا اعلامیہ جاری ہو جائے تو الیکشن کمیشن کے پاس مزید کارروائی کا اختیار نہیں رہتا۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن ٹربیونلز کے قیام کے بعد انتخابی معاملات کی سماعت کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کے پاس نہیں رہتا۔
سیاسی انتقام کا الزام: وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹسز کا مقصد انہیں ہراساں کرنا اور ان کے خلاف سیاسی انتقام لینا ہے، کیونکہ نوٹسز کے ذریعے ان کے سر پر تلوار لٹکائی جا رہی ہے۔
درخواست کی استدعا: علی امین گنڈا پور نے پشاور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن کے نوٹس کو معطل کیا جائے اور اس پر مزید کارروائی روک دی جائے۔یہ کیس خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے لیے قانونی طور پر اہمیت کا حامل ہے، اور اس سے متعلق مزید پیش رفت پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے کی جائے گی۔