وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت لاہور میں محفوظ بسنت کے انعقاد کے لیے ضلعی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات مزید تیز کر دیے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کی ہدایت پر شہر کو بسنت تھیم سے سجایا گیا ہے اور حادثات سے بچاؤ کے لیے مختلف سطحوں پر عملی اقدامات جاری ہیں۔
چھتوں کی انسپکشن اور نوٹسز:
ضلعی انتظامیہ شہر بھر میں چھتوں کی انسپکشن کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے دوران خطرناک چھتوں والی عمارات اور گھروں کو نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے افسران کو ہدایت کی ہے کہ غیر محفوظ چھتوں کی فوری نشاندہی کر کے نوٹسز چسپاں کیے جائیں اور مکینوں کو ممکنہ خطرات سے ذاتی طور پر آگاہ کیا جائے۔
شہری آگاہی اور حفاظتی اقدامات:
انتظامیہ کی جانب سے گھر گھر اور مختلف تعلیمی کیمپس میں محفوظ بسنت سے متعلق آگاہی مہم بھی جاری ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کے تحفظ کے لیے سیفٹی راڈز اور وائرز کی تنصیب کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
پتنگوں کی خرید و فروخت میں اضافہ:
بسنت کے قریب آتے ہی شہریوں کی جانب سے پتنگوں اور گڈی ڈور کی خرید و فروخت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ موچی گیٹ سمیت مختلف بازاروں میں رنگ برنگی پتنگیں اور گڈے فروخت ہو رہے ہیں، جہاں ایک تاوا گڈا 400 روپے اور ڈیڑھ تاوا گڈا 700 روپے میں دستیاب ہے۔
پابندی والے علاقے:
لاہور ایئرپورٹ کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ لاہور ایئرپورٹ سے ملحقہ 15 سے زائد علاقوں میں پتنگ بازی پر پابندی ہوگی، جن میں ڈی ایچ اے، نشاط، علی ویو گارڈن، علی پاک، نادر آباد، تاج باغ، کینال بینک اور دیگر ملحقہ علاقے شامل ہیں۔صوبائی اور ضلعی حکومتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ کچھ علاقوں میں پابندی کا مقصد جہازوں کی آمدورفت کو محفوظ بنانا ہے۔ ان علاقوں میں دفعہ 144 کے تحت پتنگ بازی پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ پنجاب حکومت جلد نوٹیفکیشن بھی جاری کرے گی۔