لاہوریئے کھانوں کی طرح پتنگوں اور ڈور پر ٹوٹ پڑے‘دھڑا دھڑ خریداری‘قیمتیں زیادہ سامان کم پڑ گیا

ایک تاوا پتنگ کی قیمت 300 روپے سے بڑھا کر 400 روپے کر دی گئی ‘ ڈیڑھ تاوا پتنگ 400 روپے سے بڑھ کر 600 روپے میں فروخت ہو رہی ہے
 2 پیس ڈور کا پنا 12 ہزار روپے سے بڑھ کر 15 ہزار روپے تک پہنچ گیا‘ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کی نگرانی کیلئے کوئی اہلکار بازاروں میں نظر نہیں آ رہا
لاہور (شہزاد راجپوت ) لاہور میں بسنت میلہ قریب آتے ہی پتنگوں اور ڈور کی قیمتیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں، جس کے باعث بسنت کا روایتی جشن مہنگائی کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔  دکانداروں نے من مانی قیمتیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں اور روز بروز نرخوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔شہریوں کے مطابق گزشتہ روز کے مقابلے میں  پتنگوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ ایک تاوا پتنگ کی قیمت 300 روپے سے بڑھا کر 400 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ڈیڑھ تاوا پتنگ 400 روپے سے بڑھ کر 600 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح دو پیس ڈور کا پنا 12 ہزار روپے سے بڑھ کر 15 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے شہریوں کی بسنت کی خوشیاں ماند کر دی ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دوستوں کے ساتھ مل کر بسنت منانے کیلئے محدود بجٹ تیار کیا تھا، تاہم اب 10 سے 15 پتنگوں کے بجٹ میں صرف 5 پتنگیں ہی خریدی جا سکتی ہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں میں بے قابو اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے۔شہریوں کا مزید کہنا ہے  ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کی نگرانی کیلئے کوئی اہلکار بازاروں میں نظر نہیں آ رہا، جس کے باعث دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔دوسری جانب دکانداروں کا مؤقف ہے کہ پتنگوں اور ڈور کی سپلائی کم جبکہ طلب بہت زیادہ ہے، جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔