امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی افریقا کو دی جانے والی تمام فنڈنگ روکنے کی دھمکی دے دی ہے۔
انہوں نے جنوبی افریقا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کچھ مخصوص طبقوں کے ساتھ بہت برا سلوک کر رہا ہے اور زمین پر قبضہ کر رہا ہے، تاہم ان کے پاس اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب تک اس معاملے کی مکمل تحقیقات نہیں کی جاتیں، وہ جنوبی افریقا کو دی جانے والی تمام امداد کو روک دیں گے۔ ان کے مطابق امریکہ اس صورتحال میں جنوبی افریقا کے ساتھ نہیں ہے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔امریکی حکومت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے 2023ء سے جنوبی افریقا کو تقریباً 440 ملین ڈالرز کی امداد دینے کا عہد کیا تھا۔ جنوبی افریقا کے صدر سیریل رامافوسا نے حالیہ مہینوں میں ایک نیا قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت ریاست کے لیے عوامی مفاد میں اراضی کو ضبط کرنا آسان ہو جائے گا۔
اس قانون کا مقصد زمین کی ملکیت میں نسلی تفاوت کو دور کرنا ہے جو 1994ء میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے بعد تین دہائیوں سے برقرار ہے۔اس نئے قانون کے مطابق حکومت کو زمین کی ضبطی کا اختیار دیا گیا ہے تاکہ وہ ان کسانوں یا افراد سے زمین واپس لے سکے جنہوں نے نسلی طور پر امتیازی سلوک کی بنیاد پر زمین حاصل کی تھی۔ ٹرمپ کی طرف سے یہ دھمکی ایک نئی سیاسی کشیدگی کو جنم دے رہی ہے، جو جنوبی افریقا کے داخلی معاملات میں عالمی سطح پر مزید مداخلت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔