ملک بھر میں افغان باشندوں کی وطن واپسی جاری، خیبرپختونخوا میں رفتار سست پڑ گئی

ملک بھر میں افغان باشندوں کی وطن واپسی جاری، خیبرپختونخوا میں رفتار سست پڑ گئی

غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے، مگر خیبرپختونخوا میں یہ عمل وفاقی حکمت عملی کے مقابلے میں سست روی کا شکار ہے۔
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کے لیے وفاقی حکومت نے Illegal Foreigner Repatriation Plan (IFRP) شروع کیا ہے، جس کا مقصد قومی سلامتی، وسائل کے تحفظ اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنانا ہے۔وفاقی حکومت کے مطابق، اس پلان کے تحت ملک بھر میں افغان مہاجر کیمپوں کو مرحلہ وار بند کیا جا رہا ہے۔ اب تک 54 کیمپوں کو قانونی طور پر غیر فعال قرار دیا گیا ہے، جن میں سے 43 خیبرپختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک پنجاب میں تھے۔پنجاب اور بلوچستان میں فوری عمل درآمد ہوا ہے، جس کے نتیجے میں میانوالی کا واحد افغان کیمپ مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے، اور بلوچستان میں 88 ہزار سے زائد افغان شہریوں کی واپسی کا عمل جاری ہے جو دسمبر تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

لیکن خیبرپختونخوا میں صورتحال تشویشناک ہے۔ یہاں 43 میں سے صرف 2 کیمپوں کو مکمل طور پر بند کیا گیا ہے، جبکہ باقی فعال ہیں۔ صوبائی حکومت ان کیمپوں میں رہائشی افغان باشندوں کو بنیادی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔پولیس اور حکومتی اداروں کی ناکامی کے سبب، حالانکہ کچھ کیمپوں کا ڈی نوٹیفکیشن ہو چکا ہے، وہ ابھی بھی فعال ہیں، جو صوبے کی کمزور حکومتی پالیسی اور وسائل کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔اس صورتحال سے قانون کی عملداری میں کمی، وسائل پر اضافی بوجھ اور دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ واضح ہوتا ہے۔ وفاقی ہدایات کے باوجود، خیبرپختونخوا حکومت آئی ایف آر پی پر موثر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی ہے، جس سے صوبے کی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کو خطرات لاحق ہیں۔