وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اہم سکیورٹی اجلاس ہوا، جس میں ملک کی داخلی سکیورٹی، افغان پالیسی اور دیگر خارجہ امور پر مشاورت کی گئی۔
اس اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات، وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی سرحدی سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیل سے بات کی گئی اور ملک میں موجود غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلا پر بھی بحث کی گئی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی افغان باشندوں کے انخلا کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ ملکی سکیورٹی اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں افغان پالیسی کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا، جس میں افغان حکام کے ساتھ تعلقات اور سرحدی سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لئے ممکنہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
علاوہ ازیں ملک کی داخلی سکیورٹی کی صورتحال اور اس میں بہتری لانے کے لیے حکومتی اقدامات پر بھی بات کی گئی۔اس اجلاس میں سکیورٹی حکام نے ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور وزیراعظم کو اہم فیصلوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ اجلاس کے دوران وزیر خارجہ نے پاکستان کے عالمی تعلقات اور خارجہ پالیسی کی موجودہ سمت پر بھی بات کی۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور آئندہ کے لیے سکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایات دیں۔