اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزاؤں سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں چند سزاؤں میں تبدیلی جبکہ سزائے موت برقرار رکھی گئی ہے۔
تحریری فیصلے کی اہم نکات:
مرکزی سزا – سزائے موت برقرار:
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ:
"مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کی جاتی ہے۔"
ریپ کیس میں سزا میں نرمی:
ریپ کے مقدمے میں دی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اغواء کی سزا میں تخفیف:
اغواء کی سزا کو 10 سال سے کم کرکے 1 سال کر دیا گیا ہے۔
معاوضہ ادا کرنے کا حکم برقرار:
نور مقدم کے اہلخانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم برقرار رکھا گیا ہے۔
شریک مجرموں کو رعایت:
مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار پر سزا کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ:
"انہوں نے جتنی سزا کاٹ لی ہے، وہی کافی ہے۔"
عدالتی فیصلے کی اہمیت:
یہ فیصلہ ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں سپریم کورٹ نے ایک ہائی پروفائل کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مرکزی مجرم کی سزائے موت برقرار رکھی، مگر دیگر پہلوؤں میں قانون کے مطابق نرمی بھی برتی۔
پس منظر:
نور مقدم کو جولائی 2021 میں اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں انصاف کے لیے آوازیں بلند ہوئیں۔ اس کیس نے خواتین کے تحفظ، عدالتی عمل اور سزاؤں کے نفاذ پر اہم مباحث کو جنم دیا۔