ویتنام: بڑے منشیات اسمگلنگ کیس میں 11 افراد کو سزائے موت

ویتنام: بڑے منشیات اسمگلنگ کیس میں 11 افراد کو سزائے موت

ہوچی منہ سٹی: ویتنام کی ہوچی منہ سٹی کی عوامی عدالت نے بڑے منشیات اسمگلنگ کیس میں 11 افراد کو سزائے موت سنا دی، جبکہ 20 دیگر ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ’VN10‘ کے نام سے جانے جانے والے اس مقدمے میں مجموعی طور پر 227 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ کیس کا آغاز مارچ 2023 میں ہوا، جب فرانس سے ویتنام پہنچنے والی چار خواتین ایئرلائن اٹینڈنٹس کے سامان سے ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوبوں میں چھپی ہوئی منشیات برآمد ہوئی تھیں۔تفتیش کے دوران 10 کلوگرام سے زائد منشیات برآمد ہونے کا انکشاف ہوا، جن میں ایم ڈی ایم اے اور کیٹامین شامل تھیں۔ بعد ازاں تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا تو حکام نے منشیات اسمگلنگ کے ایک بڑے بین الاقوامی نیٹ ورک کا سراغ لگایا۔تفتیش کاروں کے مطابق نیٹ ورک کے ارکان منشیات کو ٹوتھ پیسٹ، کافی، چاکلیٹ اور شیمپو سمیت روزمرہ استعمال کی اشیا میں چھپا کر فرانس سے ویتنام منتقل کرتے تھے۔ ویتنام پہنچنے کے بعد یہ منشیات جنوبی ویتنام کے مختلف علاقوں میں تقسیم کی جاتی تھیں۔حکام کے مطابق نیٹ ورک سے منسلک بعض افراد نے رابطے اور منصوبہ بندی کے لیے ٹیلی گرام اور سگنل جیسی خفیہ پیغام رسانی کی ایپس کا بھی استعمال کیا۔

عدالت نے مقدمے میں نیٹ ورک کے 11 اہم ارکان کو سزائے موت سنائی، جن میں مبینہ طور پر مرکزی سرغنہ بھی شامل ہے۔ عدالت کے مطابق مرکزی ملزم تقریباً 18 کلوگرام منشیات کی خرید و فروخت اور اسمگلنگ سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث تھا۔عدالت نے بعض دیگر ملزمان کو بڑی مقدار میں ایم ڈی ایم اے، کیٹامین اور دیگر منشیات کی خرید و فروخت، ترسیل اور تقسیم میں کردار ادا کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔مقدمے میں 20 دیگر ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ باقی ملزمان کو ان کے کردار اور جرم کی نوعیت کے مطابق مختلف مدت کی قید کی سزائیں دی گئیں۔ ان سزاؤں کی مدت تقریباً ڈیڑھ سال سے 29 سال تک ہے۔ویتنام میں منشیات سے متعلق جرائم پر سخت سزائیں دی جاتی ہیں، خصوصاً بڑی مقدار میں منشیات کی اسمگلنگ اور تقسیم میں ملوث افراد کو سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔