ٹماٹر، انڈے، دال مونگ، شہد ‘ آلو‘ گھی، مکھن، ڈرائی فروٹ، مچھلی ‘ کوکنگ آئل ‘ مشروبات، گندم کا آٹا، جوتے اور الیکٹرانک کا سامان مہنگا ہو گیا:ادارہ شماریات کی رپورٹ
مہنگائی میں کمی صرف کاغذات کی حد تک ہے‘بازار میں کوئی چیز خریدنے کے لئے جائیں تو اس کی قیمت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوچکا ہوتا ہے‘حکومت روزانہ قیمتیں چیک کرائے:شہری
اسلام آباد ‘لاہور(بیورو رپورٹ‘سپیشل رپورٹر‘ایجنسیاں) ادارہ شماریات کا کہنا ہے ملک میں مہنگائی کی شرح 4.9 فیصد پر آ گئی ہے ۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے اکتوبر 2024 میں مہنگائی 7.2 فیصد پر تھی جبکہ نومبر 2023 میں مہنگائی کی شرح 29.2 فیصد تھی۔اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 میں شہری علاقوں میں مہنگائی 5.2 فیصد اور دیہی علاقوں میں 4.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ کھانے پینے کی اشیا میں 0.5 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ ماہ ٹماٹر، انڈے، دال مونگ، شہد اور آلو کے نرخ میں اضافہ ریکارڈ ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق گھی، مکھن، ڈرائی فروٹ، مچھلی اور کوکنگ آئل مہنگا ہوا، گندم، ریڈی میڈ فوڈ، مشروبات، گندم کا آٹا، جوتے اور الیکٹرانک کا سامان بھی مہنگا ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ چکن، دال ماش، سبزیاں اور پھل سستے ہوئے، ال چنا، پیاز، مصالحہ جات، چینی، گْڑ، دال مسور اور چاول بھی سستے ہوئے۔دریں اثناء شہریوں نے ادارہ شماریات کی رپورٹ پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے روزہ مرہ استعمال کی کوئی بھی چیز سستی نہیں ہوئی‘مہنگائی میں کمی صرف کاغذات کی حد تک ہے‘بازار میں کوئی چیز خریدنے کے لئے جائیں تو اس کی قیمت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوچکا ہوتا ہے‘روزنامہ ’’حریف‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے شہریو ں نے کہا حکومت پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کرے اور روزانہ اشیاء کی قیمتیں چیک کرائے