اسلام آباد: سپریم کورٹ نے غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر اپیل واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت پرویز الٰہی کے وکیل عامر سعید راں نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں ایک اہم قانونی سوال موجود ہے اور اس معاملے پر عدالت کی رہنمائی درکار ہے۔اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ اپیل غیر مؤثر نہیں ہو چکی؟ انہوں نے کہا کہ آپ ایک غیر مؤثر معاملے پر محض علمی بحث کرنا چاہتے ہیں۔وکیل عامر سعید راں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پرویز الٰہی کی ضمانت کے خلاف حکومت کی اپیل بھی خارج ہو چکی ہے۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اپیل واپس لے کر متعلقہ فورم سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔بعد ازاں پرویز الٰہی کی قانونی ٹیم نے جسمانی ریمانڈ سے متعلق اپیل واپس لے لی، جس پر سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔واضح رہے کہ پرویز الٰہی کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق مقدمہ زیرِ سماعت ہے، جس میں قانونی کارروائی کے مختلف مراحل جاری ہیں۔