خالد مسعود
اسلام کی تاریخ ایسے عظیم بزرگوں، علما اور صوفیائے کرام سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے علم، تقویٰ، اخلاص اور کردار کے ذریعے لاکھوں انسانوں کے دلوں کو اسلام کی روشنی سے منور کیا۔ ان ہی عظیم ہستیوں میں حضرت داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا نام نہایت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ آپ برصغیر میں اسلام کے اولین مبلغین اور عظیم صوفی بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا، دینِ اسلام کی خدمت، انسانیت کی بھلائی اور اخلاقی اصلاح کے لیے وقف کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج تقریباً ایک ہزار سال گزرنے کے باوجود آپ کا نام عقیدت، محبت اور احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے اور آپ کی تعلیمات آج بھی لوگوں کے دلوں کو روشنی فراہم کر رہی ہیں۔ہر سال لاہور میں حضرت داتا علی ہجویریؒ کا سالانہ عرس نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ یہ عرس اسلامی مہینے صفر المظفر کی 18، 19 اور 20 تاریخ کو منعقد ہوتا ہے، جس میں پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ دنیا بھر سے لاکھوں زائرین شرکت کرتے ہیں۔ عرس کے موقع پر مزارِ اقدس کو خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے، خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں، قرآنِ مجید کی تلاوت، محافلِ نعت، ذکر و اذکار اور علما و مشائخ کے خطابات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر حضرت داتا گنج بخشؒکی دینی، علمی اور روحانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور ان کی تعلیمات کو عام کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔
حضرت داتا علی ہجویریؒ کا اصل نام حضرت سید علی بن عثمان ہجویری تھا۔ آپ کا تعلق افغانستان کے تاریخی شہر غزنی کے قریب ہجویر نامی علاقے سے تھا، اسی نسبت سے آپ ہجویری کہلائے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام حسنؓ تک پہنچتا ہے، جس کی وجہ سے آپ ساداتِ کرام میں شمار ہوتے ہیں۔ بچپن ہی سے آپ کو علمِ دین حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا۔ آپ نے قرآنِ کریم، حدیث، فقہ، تفسیر اور دیگر اسلامی علوم کی تعلیم ممتاز علما سے حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے روحانی تربیت بھی حاصل کی اور مختلف مشائخِ کرام کی صحبت سے فیض پایا۔ علم کی جستجو میں آپ نے عراق، ایران، خراسان، شام، ترکستان اور وسط ایشیا کے مختلف علاقوں کا سفر کیا، جہاں آپ نے اس زمانے کے بڑے علما اور صوفیائے کرام سے علم و معرفت حاصل کی۔بعد ازاں آپ اپنے مرشد کے حکم پر لاہور تشریف لائے۔ اس زمانے میں لاہور علم و معرفت کا اتنا بڑا مرکز نہیں تھا، لیکن حضرت داتا گنج بخشؒکی آمد نے اس شہر کی علمی اور روحانی حیثیت کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ آپ نے لاہور میں رہ کر اسلام کی تبلیغ، دینی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت کا ایسا سلسلہ شروع کیا جس کے اثرات آج تک قائم ہیں۔ اسی وجہ سے لاہور کو اولیائے کرام کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔
حضرت داتا علی ہجویریؒ کی سب سے بڑی خدمت دینِ اسلام کی پرامن تبلیغ تھی۔ آپ نے کبھی کسی پر دین مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ محبت، اخلاق، عاجزی، سچائی اور بہترین کردار کے ذریعے لوگوں کے دل جیتے۔ آپ کا عقیدہ تھا کہ بہترین اخلاق ہی اسلام کی اصل پہچان ہیں۔ آپ کی نرم گفتگو، خلوص، سادگی اور عبادت نے ہزاروں لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ بہت سے غیر مسلم آپ کے حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے جبکہ مسلمان آپ کی صحبت سے اپنے ایمان اور کردار کو مضبوط بناتے رہے۔حضرت داتا صاحبؒ نے ہمیشہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا مرکز بنایا۔ آپ نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت، رسول اکرمﷺ کی سنت پر عمل، سچائی، دیانت داری، عدل و انصاف، صبر، شکر، قناعت، عاجزی اور خدمتِ خلق کی تلقین کی۔ آپ فرماتے تھے کہ اگر انسان اپنے اخلاق کو درست کر لے تو اس کی عبادت بھی زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے، کیونکہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ اچھے کردار کا بھی دین ہے۔
آپ کی علمی خدمات بھی بے مثال ہیں۔ آپ کی مشہور کتاب "کشف المحجوب" فارسی زبان میں تصوف پر لکھی جانے والی اولین اور مستند کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب میں آپ نے تصوف کی حقیقت، اولیائے کرام کی سیرت، تزکی? نفس، اخلاص، توکل، صبر، محبتِ الٰہی، عبادت، ذکر اور اسلامی اخلاق کو نہایت آسان انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں تصوف کو قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی تصوف شریعت سے الگ نہیں بلکہ اس کا عملی نمونہ ہے۔ آج بھی دنیا بھر کے دینی مدارس، جامعات اور علمی حلقوں میں اس کتاب کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔حضرت داتا علی ہجویریؒ نے اپنی خانقاہ کو صرف عبادت کی جگہ نہیں بنایا بلکہ اسے تعلیم، تربیت، خدمتِ خلق اور اصلاحِ معاشرہ کا مرکز بنا دیا۔ آپ کی خانقاہ میں امیر و غریب، چھوٹے بڑے، عالم و جاہل اور ہر طبقے کے لوگ آتے تھے۔ ہر آنے والے کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا جاتا، اسے عزت دی جاتی اور اس کی ضرورت کے مطابق مدد کی جاتی۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا، مسافروں کی مدد کرنا، یتیموں اور محتاجوں کی کفالت کرنا اور دکھی انسانوں کے دکھ بانٹنا آپ کی زندگی کا معمول تھا۔ آپ نے ہمیشہ اتحاد، بھائی چارے اور محبت کا درس دیا۔
حضرت داتا علی ہجویریؒ نے نوجوانوں کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی۔ آپ فرماتے تھے کہ نوجوان اگر علم، تقویٰ اور اچھے اخلاق سے آراستہ ہوں تو وہ معاشرے کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔ اسی لیے آپ نے تعلیم کے ساتھ کردار سازی کو بھی ضروری قرار دیا۔ آپ کے نزدیک ایسا علم بے فائدہ ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار اور معاشرے کا مفید فرد نہ بنا سکے۔آج کے جدید دور میں جب معاشرہ اخلاقی بحران، بے چینی، نفرت، لالچ، خود غرضی اور فرقہ واریت جیسے مسائل کا شکار ہے، حضرت داتا علی ہجویریؒ کی تعلیمات پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتی ہیں۔ اگر ہم ان کی سیرت سے رہنمائی حاصل کریں، اپنے کردار کو بہتر بنائیں، دوسروں کے حقوق کا احترام کریں، خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور قرآن و سنت پر عمل کریں تو ہمارا معاشرہ امن، محبت اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
حضرت داتا علی ہجویریؒکی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، علم کی اشاعت، اصلاحِ معاشرہ، محبتِ انسانیت اور اعلیٰ اخلاق کا عملی نمونہ تھی۔ آپ نے اپنی تعلیمات اور کردار سے ثابت کیا کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ اس کی مخلوق سے بھی محبت کرے، دوسروں کی مدد کرے، سچائی اور انصاف کو اپنائے اور معاشرے میں خیر و بھلائی پھیلائے۔ اگر ہم آج بھی حضرت داتا علی ہجویریؒ کی تعلیمات پر عمل کریں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، بھائی چارے، محبت اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ یہی حضرت داتا علی ہجویریؒ کی دینی خدمات کا اصل پیغام ہے، جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔حضرت داتا علی ہجویریؒ کی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، علم کی اشاعت، اصلاحِ معاشرہ، محبتِ انسانیت اور اعلیٰ اخلاق کا عملی نمونہ تھی۔ آپ نے اپنی تعلیمات اور کردار سے ثابت کیا کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ اس کی مخلوق سے بھی محبت کرے، دوسروں کی مدد کرے، سچائی اور انصاف کو اپنائے اور معاشرے میں خیر و بھلائی پھیلائے۔ اگر ہم آج بھی حضرت داتا علی ہجویریؒکی تعلیمات پر عمل کریں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، بھائی چارے، محبت اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ یہی حضرت داتا علی ہجویریؒ کی دینی خدمات کا اصل پیغام ہے، جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔