حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ : دور خلافت اور فتوحات

محمد راشد تبسم
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ 583 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ جاہلیت کے دور میں بھی ان کی شخصیت کو بہت عزت اور وقار حاصل تھا۔ 
وہ اپنی جوانی میں اونٹ چراتے تھے اور عرب کے دستور کے مطابق سپہ سالاری، شہسواری، اور پہلوانی کی تعلیم حاصل کی۔ گھڑ سواری، کشتی اور جنگی مہارتوں میں بھی انہیں غیر معمولی کمال حاصل تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت قریش میں صرف سترہ آدمی پڑھنا لکھنا جانتے تھے جن میں سے ایک آپ تھے۔ اس وجہ سے انہیں معاشرے میں ایک خاص مقام حاصل تھا اور لوگ ان کی رائے کو اہمیت دیتے تھے۔
 حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چھٹے سال نبوت میں اسلام قبول کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قبول اسلام کے لیے دعا کی تھی۔ چنانچہ امام ترمذی نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اے اللہ ! عمر بن خطاب اور ابو جہل بن ہشام میں سے جو شخص تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعے سے اسلام کو قوت پہنچا۔‘‘ اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے۔ اللہ کے نزدیک ان دونوںمیں زیادہ محبوب حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں’’الفاروق‘‘کا لقب عطا فرمایا، جس کا مطلب ہے حق اور باطل میں فرق کرنے والا۔
آپ کی فضیلت و برتری اور عظمتِ شان سے متعلق بہت سی احادیث مبارکہ ہیں۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بلند مقام کے بارے میں فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔ (سنن ترمذی)اسی طرح ایک اور روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر فاروق کو مخاطب کرکے فرمایا : اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا دیکھتا ہے تو اسے چھوڑ کر وہ کسی دوسرے راستے پر چل پڑتا ہے۔ (صحیح البخاری)۔ یہ روایات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان، تقویٰ اور مضبوط کردار کی نشاندہی کرتی ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ مکرمہ میں کچھ عرصہ رہے اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کے درمیان مواخات قائم کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا جو 3 ہجری میں انجام پایا۔ 
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تقریباً 18 سال تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں وقت گزارا اور تمام اہم غزوات میں حصہ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ منتخب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 
خلافتِ ابوبکر کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ بطور مشیر اور قریبی معاون خدمات انجام دیتے رہے۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دوسرے خلیفہ کے طور پر نامزد کیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے آغاز میں ایک اہم خطبہ دیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ وہ قرآن اور سنت کی روشنی میں حکومت کریں گے اور لوگوں سے مدد اور اصلاح کی درخواست کی۔ انہوں نے یہ اصول قائم کیا کہ اگر وہ صحیح راستے پر ہوں تو ان کی پیروی کی جائے اور اگر وہ غلطی کریں تو انہیں درست کیا جائے۔ یہ طرزِ حکومت اسلامی تاریخ میں عدل و احتساب کی ایک روشن مثال ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلامی ریاست نے بے مثال ترقی کی۔ ان کے دس سالہ دور میں عراق، ایران، آذربائیجان، کرمان، خراسان، شام، فلسطین، اردن اور مصر جیسے بڑے علاقے اسلامی سلطنت میں شامل ہوئے۔ ان کی قیادت میں اسلامی سلطنت تقریباً بائیس لاکھ مربع میل تک پھیل گئی۔ یہ وسعت ان کی بہترین حکمت عملی اور مضبوط نظم و نسق کا نتیجہ تھی۔ آپ نے اپنے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کے مندرجہ ذیل صوبے بنائے: مکہ ،مدینہ،شام ،مصر،فلسطین،خراسان،آذربئجان،فارس،عراق،دجلہ کا بالائی حصہ (جزیرہ، فرات)۔ ہر صوبے میں ایک کاتب، منشی، کلیکٹر،ایک پولیس کا افسر،افسر خزانہ اور ایک قاضی ضرور ہوتا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بہت سی سیاسی، انتظامی، معاشی ، معاشرتی اور تمدنی اصلاحات کی گئیں۔ بیت المال کا باقاعدہ نظام قائم ہوا، جبکہ انتظامی اور فوجی شعبہ جات کو منظم کیا گیا اور سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں کا نظام شروع کیا گیا۔ سنہ ہجری کا آغاز اور ‘‘امیرالمومنین’’ کا لقب اسی دور کی اہم خصوصیات ہیں۔انہوں نے مردم شماری، صوبائی نظام اور عدالتی ادارے مضبوط کیے، جبکہ کوفہ اور بصرہ جیسے نئے شہر آباد کیے گئے۔ عوامی سہولت کے لیے نہریں، سڑکیں، سرائے اور کنویں بنائے گئے اور سیکیورٹی کے لیے گشت اور پولیس کا نظام قائم ہوا۔معاشرتی انصاف کے تحت زکوٰۃ، وظائف اور کمزور طبقات کی کفالت کا نظام بنایا گیا۔ باجماعت نماز تراویح، قانونی دستاویزات اور بیرونی تجارت جیسے اقدامات بھی اسی دور میں ہوئے۔ ان اصلاحات نے اسلامی ریاست کو ایک مثالی نظام میں تبدیل کر دیا۔
23 ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ابو لولو فیروز نامی ایک مجوسی نے حملہ کر کے شہید کر دیا۔ اپنی وفات سے قبل انہوں نے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تاکہ اگلا خلیفہ منتخب کیا جا سکے۔ ان کی زندگی عدل، سادگی، بہادری اور دیانت کی اعلیٰ مثال تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سابقون الاولون اور عشرہ مبشرہ میں شامل تھے۔آپ رضی اللہ عنہ سے 500 پانچ سو سے زائد احادیث مبارکہ مروی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کے ایک عظیم رہنما، عادل حکمران، بہادر سپہ سالار اور مثالی انسان تھے۔ ان کی زندگی ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان جیسا عدل و انصاف کرنے والا حکمران عطا فرمائے۔ آمین۔