ڈاکٹر جاوید
کچھ شخصیات صرف ذمہ داریاں نہیں نبھاتیں ، اپنی بصیرت ، اخلاص ، دیانت اور کردار سے اداروں کی شناخت بن جاتی ہیں۔
کچھ لوگ عہدوں سے پہچانے جاتے ہیں اور کچھ اپنے کردار سے تاریخ رقم کرتے ہیں۔
ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جن کی پہچان ان کی کرسی نہیں ، ان کی خدمت ، انکساری ، فرض شناسی اور بے لوث محنت بن جاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں مجھے تین مرتبہ مرکز تجلیات حضرت داتا گنج بخش کے دربار شریف پر حاضری کا موقع ملا۔پہلی مرتبہ میڈیکل کیمپ کے سلسلے میں اور پھر عرسِ مبارک کے ایام میں۔ان مواقع پر ایک منظر بار بار میری نگاہوں کے سامنے آتا رہا۔ایڈمنسٹریٹر داتا دربار محمد علی خان اور ان کے منیجرز حسن رضوان ، گوہر مصطفیٰ ، زاہد اقبال بٹ ، شہباز اور دیگر ساتھی دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔کوئی آرام کا طلب گار نہیں تھا ، کسی کو اپنی سہولت کی فکر نہیں تھی۔ہر چہرہ ذمہ داری کا آئینہ ، ہر قدم خدمت کا استعارہ اور ہر لمحہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ حضرت داتا گنج بخش کے مہمانوں کی خدمت ان کے لیے محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں ، ایک عظیم سعادت ہے۔شاید کئی کئی دن انہوں نے صرف چند گھنٹے آرام کیا ہو مگر ان کے حوصلے ، مسکراہٹ اور فرض شناسی میں ذرہ برابر کمی دکھائی نہیں دی۔یہی وہ جذبہ ہے جو ایک معمول کی انتظامی ذمہ داری کو خدمتِ خلق کی عبادت میں بدل دیتا ہے۔حضرت داتا گنج بخش? کا 983 واں سالانہ عرسِ مبارک کوئی معمولی اجتماع نہیں تھا۔
لاکھوں زائرین کی آمد ، ان کی سہولت ، سکیورٹی ، صفائی ، طبی امداد ، رہنمائی اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنانا ایک انتہائی مشکل اور حساس ذمہ داری تھی۔ایسے عظیم اجتماع کی کامیابی صرف وسائل سے ممکن نہیں ہوتی۔اس کے لیے بصیرت افروز قیادت ، بروقت فیصلے ، مسلسل نگرانی ، ٹیم ورک اور خلوصِ نیت درکار ہوتا ہے۔یہاں سیکریٹری/ چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ کی قیادت خصوصی طور پر قابلِ تحسین نظر آئی۔ڈاکٹر احسان بھٹہ کی یہ خوبصورتی ہے کہ انہوں نے منصب کو اپنی شخصیت کی پہچان نہیں بنایا ، خدمت کو اپنے منصب کی روح بنا دیا‘ان کی طاقت اختیار سے زیادہ انکساری ہے ، ان کی کامیابی ذاتی مفاد نہیں ، عوامی بھلائی ہے ، ان کی قیادت کا حسن یہ ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو صرف ہدایات نہیں دیتے ، خدمت کے سفر میں انہیں ساتھ لے کر چلتے ہیں۔
ان کی قیادت میں محکمہ اوقاف نے خدمت ، نظم و ضبط ، شفافیت ، انتظامی بہتری اور انسان دوستی کی جو مثالیں قائم کی ہیں ، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہیں۔ایڈمنسٹریٹر محمد علی خان اور ان کے تمام ساتھی اس کامیابی کے وہ کردار ہیں جنہوں نے پس منظر میں رہ کر دن رات محنت کی۔
بہت سے لوگ شاید کیمروں کے سامنے نہ آئے ہوں ، ان کے نام کسی نمایاں رپورٹ کا حصہ نہ بنے ہوں مگر ان کی محنت ہر اس زائر کی آسانی میں موجود ہے جس نے دربار شریف پر سکون اور اطمینان کے ساتھ حاضری دی۔میرا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ اولیائے کرام کے دربار کی خدمت ہر انسان کے مقدر میں نہیں لکھی جاتی۔یہ اللہ تعالیٰ کی خاص عطا ہے۔
حضور سیدی داتا گنج بخش کے آستانے پر آنے والے لاکھوں مہمانوں کی خدمت ، ان کے لیے راستے آسان کرنا ، ان کی مشکلات دور کرنا اور ان کی حفاظت و سہولت کا خیال رکھنا ایسی سعادت ہے جس میں دنیاوی فرض کے ساتھ روحانی نسبت بھی شامل ہو جاتی ہے۔اسی لیے شاید ان لوگوں کے چہروں پر تھکن سے زیادہ اطمینان دکھائی دیتا ہے۔لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں جو مسلسل مصروفیت ، تھکن اور بے آرامی کے باوجود مسکراتے رہتے ہیں ؟دل سے بے اختیار جواب آتا ہے۔’’ ان کی نسبت حضور داتا گنج بخش سے ہے "
اور جب نسبت سچی ہو ، نیت خالص ہو اور مقصد مخلوقِ خدا کی خدمت ہو تو اللہ تعالیٰ ایسی محنت میں برکت ، قدموں میں استقامت اور دل میں سکون عطا فرما دیتا ہے۔میرا ایمان ہے کہ جو شخص مخلوقِ خدا کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے۔اللہ سوہنا اسے اپنے محبوب بندوں میں جگہ عطا فرماتا ہے۔آج دربار شریف کے ان ایام کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض الفاظ نہیں تھے جو شخص کسی بیمار کے لیے طبی سہولت پیدا کرتا ہے ، کسی زائر کی مشکل آسان کرتا ہے ، کسی بزرگ کو راستہ دکھاتا ہے یا کسی مقدس مقام کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے اپنی نیند اور آرام قربان کرتا ہے ، وہ دعاؤں کی ایک ایسی دولت جمع کرتا ہے جس کا حساب دنیا کے کسی رجسٹر میں نہیں لکھا جاتا ہے۔
کچھ لوگ تاریخ کی کتابوں میں نہیں بلکہ لوگوں کی دعاؤں اور دلوں میں لکھے جاتے ہیں۔کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ داتا حضور کے خدام بڑے نصیبوں والے ہوتے ہیں اور یہ قرعہ ہر کسی کے نام نہیں نکلتا ہے۔یہی شاید سب سے بڑا اعزاز ہے۔