عرس مبارک حضرت علی ہجویریؒ المعروف داتا گنج بخشؒ

محمد یونس مغل
حضرت علی بن عثمان ہجویریؒ، جنہیں دنیا بھر میں داتا گنج بخشؒ کے لقب سے جانا جاتا ہے، برصغیر کے ان عظیم المرتبت اولیاء کرام میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اسلام کی روشنی کو ہندوستان میں عام کیا۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کو ''داتا'' یعنی دینے والا اور ''گنج بخش'' یعنی روحانی خزانے لٹانے والا کا لقب خود امامِ تصوف، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے عطا فرمایا۔ انہوں نے آپ کی شان میں یہ مشہور شعر کہا:
گنج بخش فیضِ عالم، مظہرِ نورِ خدا
ناقصاں را پیرِ کامل، کامل را رہنما
یعنی داتا گنج بخشؒ ساری دنیا کے لیے فیض کا خزانہ ہیں، اللہ کے نور کے مظہر ہیں، وہ ناکاملوں کے لیے پیرِ کامل اور کاملین کے لیے بھی رہنما ہیں۔آپ کا اصل وطن غزنی (افغانستان) تھا۔آپ کے والد حضرت عثمان رح  نیک متقی اور علم و فرقان سے بھر پور شخصیت تھے جنہوں نے  حضرت داتا گنج بخشؒ  کی ابتدائی تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔آپ کی آخری آرام گاہ لاہور میں ہے  جو روحانی برکتوں کا مرکز ہے، مخلوقِ خدا یہاں کھچی چلی آتی ہے۔  دن رات قرآن مجید کی تلاوت ہو رہی ہے، ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں، بھوکوں کو کھانا مل رہا ہے، لوگوں کی مرادیں پوری ہو رہی ہیں۔
حضرت داتا گنج بخشؒ کا اصل نام حضرت علی بن عثمان ہجویریؒ ہے۔ آپ کا تعلق علم و عرفان کے ایک عظیم روحانی خانوادے سے تھا۔ روایات کے مطابق آپ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خانوادے سے تعلق رکھتے  ہیں اور سادات میں شمار ہوتے ہیں۔آپ بچپن ہی سے علم، تقویٰ، عبادت اور زہد کی طرف مائل تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن غزنی (افغانستان) اور اردگرد کے علمی مراکز سے حاصل کی۔ بعد ازاں آپ نے مختلف علاقوں کا سفر اختیار کیا۔ حضرت علی بن عثمان ہجویریؒ نے فقہ، حدیث، تفسیر، منطق، فلسفہ اور تصوف جیسے اہم دینی و عقلی علوم میں  مکمل عبور حاصل کیا۔ آپ نے سال ہا سال تک وقت کے مشہور و ممتاز علما و مشائخ کی صحبت اختیار کی، جنہوں نے آپ کو ظاہر و باطن دونوں علوم میں کامل بنا دیا۔آپ نے دنیا بھر کے جید علما، محدثین، مفسرین اور صوفیا سے استفادہ کیا۔ آپ کے علمی و روحانی سفر میں ایران، شام، عراق، حجاز اور خراسان جیسے علمی مراکز شامل تھے، آپ نا صرف ولی اللہ تھے بلکہ بلند پایا عالم مفسر محدث اور صوفی بزرگ تھے آپ کی کتاب کشف المحجوب تصو ف کی پہلی عالمگیر کتاب ہے اس کتاب میں آپ نے روحانیت تصوف اور معرفت زہد و تقویٰ اور اولیاء کے  اقوال بیان کیے ہیں آج بھی یہ کتاب دینی اور صوفیانہ حلقوں میں معتبر و مستند سمجھی جاتی ہے۔ کشف المحجوب تصوف و معرفت کی اولین مستند کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب میں آپ نے کئی اہم روحانی و علمی موضوعات کو شامل کیا ہے، جن میں تصوف کی تعریف و اقسام، ولایت کے درجات، فقر و قناعت، تزکی? نفس، کراماتِ اولیاء، معرفتِ الٰہی، اخلاق، عشق اور عاجزی جیسے گہرے اور بصیرت افروز مضامین شامل ہیں۔کشف المحجوب آج بھی صوفی علما، محققین اور دین کے سنجیدہ طالب علموں کے لیے ایک قیمتی خزانہ اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔حضرت داتا گنج بخشؒ کو نبی کریم ﷺ سے بے پناہ عشق و محبت تھی۔ آپ کی مجالس میں نعت خوانی، ذکرِ درود، اسلام کی بنیادی تعلیمات اور سیرتِ نبوی ﷺ کا تذکرہ لازمی جزو ہوتا تھا۔ آپ نے کشف المحجوب میں بارہا عشقِ رسول ﷺ کو نجات کی بنیاد اور ایمان کی اصل روح قرار دیا ہے۔
حضرت داتا گنج بخشؒ سلسلہ جنیدیہ و چشتیہ کے عظیم روحانی بزرگ  ہیں۔ آپ نے روحانی بیعت حضرت ابو الفضل محمد بن حسن ختلیؒ کے دستِ مبارک پر کی، جو اپنے وقت کے جلیل القدر صوفی اور اہلِ سلوک میں بلند مقام رکھتے تھے۔ بیعت کے بعد حضرت داتا گنج بخشؒ نے طویل عرصہ ریاضت، مجاہدہ، خلوت، ذکر و فکر، اور نفس کی تربیت میں گزارا۔ ان شب و روز کی محنت اور روحانی مشقت نے آپ کے باطنی احوال کو بلند کر دیا، اور آپ کو ولایت کا اعلیٰ و ارفع مقام عطا ہواحضرت علی ہجویریؒ نے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اپنے پیر و مرشد کے ارشاد کے مطابق برصغیر کا سفر اختیار کیا اور بالآخر لاہور تشریف لائے۔ اس وقت لاہور کا معاشرہ دینِ اسلام سے بہت دور تھا، بدعات عام تھیں، اور شریعت و طریقت کا شعور ناپید تھا۔ یہ شہر ہندو راجاؤں اور برہمنوں کا مرکز تھا، جہاں ظلم و جبر، ذات پات، توہم پرستی اور روحانی گمراہی کا دور دورہ تھا۔ ایسے پُرآشوب ماحول میں حضرت داتا گنج بخشؒ نے نہ تلوار سے، نہ زور سے، بلکہ علم، عمل، اخلاق، اخلاص اور کردار سے لوگوں کے دل جیتے۔آپ کی روح میں تاثیر، کردار میں سچائی، اور دل میں عشقِ الٰہی موجزن تھا۔ لوگ خود بخود متاثر ہو کر آپ کے قریب آتے اور اسلام قبول کرتے۔ ہزاروں افراد نے آپ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا۔                         آپ نے تصوف کی حقیقی روح کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آپ کے نزدیک تصوف نہ کوئی رسم ہے، نہ کوئی وقتی جذبہ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی قربت کا ایک راستہ ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کے مطابق صوفی وہ ہوتا ہے جو دنیا کی حرص، لالچ، اور خواہشات سے پاک ہو، جس کا دل اللہ کی یاد سے منور ہو، اور جو مخلوقِ خدا کے لیے رحمت و شفقت کا پیکر ہو۔
حضرت داتا گنج بخشؒ کی زندگی بے شمار کرامات سے بھرپور تھی، مگر ان کی سب سے بڑی کرامت یہ تھی کہ انہوں نے اپنی دعوت، علم، عمل اور اخلاق کے ذریعے دلوں کو فتح کی۔ روحانی برکات کا عالم یہ ہے کہ آپ کے مزار پر آنے والے زائرین کا تعلق کسی بھی مذہب، مسلک یا قوم سے ہو، وہ یہاں سے روحانی سکون، قلبی اطمینان اور باطنی روشنی لے کر واپس جاتے ہیں۔آپ کے فیوض و برکات کی تاثیر یہ ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی لاکھوں عقیدت مند آپ کے در سے فیض یاب ہو رہے ہیں، اور اپنی دلی مرادیں پاتے ہیں۔ حضرت داتا گنج بخشؒ نے صرف عبادت و ریاضت تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ آپ نے معاشرتی برائیوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔ آپ نے جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی، ظلم، اور غیر اسلامی رسوم و رواج کے خلاف اصلاحی پیغام دیا۔ آپ نے لوگوں کو تصوف کا اصل مفہوم سمجھایا، جو محض ظاہری لباس یا رسوم کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ سے سچا اور زندہ تعلق قائم کرنا نفس کی اصلاح و تزکیہ عاجزی، انکساری اور خلوصِ نیت کو اختیار کرنا ہے۔
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کا وصال 465 ہجری میں لاہور میں ہوا۔ آپ کا مزارِ مبارک لاہور میں واقع ہے، جو آج پاکستان کا ایک عظیم روحانی و دینی مرکز بن چکا ہے۔ہر سال 20 تا 22 صفر المظفر کو آپ کا سالانہ عرس مبارک منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر لاکھوں عقیدت مند ملک بھر سے بلکہ بیرونِ ملک سے بھی حاضری دیتے ہیں۔زائرین قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں، تسبیحات، ذکر و اذکار اور دعاؤں میں مشغول رہتے ہیں، اور نیاز و نذریں پیش کرتے ہیں۔زائرین قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں، تسبیحات، ذکر و اذکار اور دعاؤں میں مشغول رہتے ہیں، اور نیاز و نذریں پیش کرتے ہیں۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کا پیغام آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے سچی محبت کرو اور دنیا کی چمک دمک میں گم نہ ہو جاؤ۔آپ علم کے ساتھ عمل کو لازم قرار دیتے ہیں اور روحانیت کے ذریعے دل کی دنیا بدلنے کی دعوت دیتے ہیں۔حضرت علی ہجویریؒ آفتابِ ولایت ہیں، جنہوں نے علم، عمل، تقویٰ اور روحانیت کے ذریعے برصغیر کے لاکھوں لوگوں کو فیض پہنچایا۔ آپ کی تعلیمات، اخلاقی روشنی، اور اصلاحی پیغام آج بھی زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گی۔ اگر ہم ان کی تعلیمات پر خلوص کے ساتھ عمل کریں تو نہ صرف ہمیں دنیا میں سکون و امن نصیب ہو سکتا ہے بلکہ آخرت میں بھی نجات ممکن ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کی زندگی ایک مکمل نمونہ ہے، جو ہر دور کے انسان کے لیے راہِ ہدایت ہے۔