عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور تیل کی قیمتیں مسلسل چوتھے ماہ اضافے کی جانب گامزن ہیں۔
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کے مبینہ طور پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی اطلاعات کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں تشویش بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جمعے کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ آبنائے ہرمز میں متعدد آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا۔ اس پیش رفت نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور سپلائی کو درپیش خطرات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع کے آٹھویں ماہ میں داخل ہونے کے دوران آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات نے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ سرمایہ کاروں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقوں کی توجہ اب خطے میں بحری آمدورفت اور تیل کی سپلائی کی صورتحال پر مرکوز ہے۔عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کے دسمبر کے سودوں کی قیمت میں 1.20 ڈالر یعنی 1.04 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 116.08 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں بھی 1.37 ڈالر یعنی 1.34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 103.37 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ماہانہ بنیادوں پر بھی خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا رجحان برقرار ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں رواں ماہ تقریباً 11 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تقریباً 14 فیصد بڑھنے کی جانب گامزن ہے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی کی مصنوعات مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہیں۔ اس گزرگاہ میں سکیورٹی صورتحال خراب ہونے یا بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی اور قیمتوں پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔