ادارہ مالی خسارے کاشکار، حکومتی پائیدار ماڈل صرف دعو ئوں تک محدود
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور میں شاپ سائن بورڈز سے اربوں روپے کی ممکنہ آمدن ہونے کے باوجود وصولی کا نظام ناکام، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی مالی خسارے کا شکار، لاکھوں دکانیں نیٹ سے باہر، جبکہ حکومتی پائیدار ماڈل صرف دعو ئوں تک محدود ہوکر رہ گیا۔ذرائع کے مطابق شہر میں سرکاری آمدن کے ایک بڑے ذریعے کو نظر انداز کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جہاں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی کو شاپ سائن بورڈز سے وصولی کی ذمہ داری تو سونپی گئی، مگر عملی طور پر یہ نظام م ئوثر انداز میں نافذ نہ ہو سکا۔ لاہور میں تقریباً پانچ لاکھ پندرہ ہزار دکانوں کے یونٹس موجود ہیں، تاہم پی ایچ اے کی جانب سے صرف ساڑھے آٹھ ہزار دکانوں سے ہی وصولی کی جا رہی ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنی بڑی تعداد اس نیٹ سے باہر ہے۔ذرائع کے مطابق اگر تمام دکانوں سے سائن بورڈ فیس کی مد میں وصولی کی جائے تو سالانہ آمدن کا ہدف تقریباً ساڑھے سات ارب روپے بنتا ہے، مگر جاری مالی سال میں اب تک صرف 67 کروڑ روپے ہی وصول کیے جا سکے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً چھ ارب بیاسی کروڑ روپے کی خطیر رقم وصول نہ ہو سکی، جو ادارے کے مالی بحران کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔